ملتان:پنجاب بار کونسل نے جعلی ڈگریوں پر سخت ایکشن لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی، نئے لائسنس کے لئے ایچ ای سی سے تصدیق لازمی قرار دے دی گئی۔
پنجاب بار کونسل نے جعلی تعلیمی ڈگریوں کے بڑھتے ہوئے کیسز کا نوٹس لیتے ہوئے سخت اقدامات اٹھا لئے ہیں۔
پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان کی جانب سے جاری حکم میں جعلی ڈگریوں کے ذریعے وکالت نامہ حاصل کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا کہا گیا ہے۔
اس ضمن میں ڈگریوں کی تصدیق کے عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کئی افراد نے مختلف یونیورسٹیوں، جن میں آزاد جموں و کشمیر (میرپور)، الخیر یونیورسٹی بھمبر، غلام محی الدین، شاہ عبداللطیف، سندھ یونیورسٹی، اور کراچی یونیورسٹی شامل ہیں، کی مبینہ ڈگریاں جمع کرائیں۔ ان میں سے متعدد ڈگریاں جعلی اور بوگس پائی گئیں۔
جس پر پنجاب بار کونسل کی اینٹی کرپشن کمیٹی کے سینیئر آفیسر امجد فاروق کو سیکرٹری پنجاب بار کونسل کی زیر نگرانی ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ان افراد کی تعداد شامل ہوگی جو پہلے ہی ان یونیورسٹیوں کی ڈگریوں پر بار کونسل سے لائسنس حاصل کر چکے ہیں، اور ان درخواستوں کی تعداد بھی جو اس وقت زیر کارروائی ہیں۔
اس سلسلے میں جاری ہدایت کے مطابق پہلے سے انرول شدہ تمام ارکان کو اپنی ڈگریاں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تصدیق شدہ جمع کرانے کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح کوئی بھی نیا لائسنس اس وقت تک جاری نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ایل ایل بی ڈگری ایچ ای سی سے تصدیق شدہ نہٹ ہو۔ ان ہدایات کی عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
پنجاب بار کونسل کے مطابق مستقبل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے، لائسنس صرف ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کرانے پر ہی جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو آن لائن درخواست کے نظام میں ضروری تبدیلیاں اور ان ضروریات کو شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی کو رپورٹ پندرہ (15) دنوں کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جن افراد کے کیسز لائسنس کے اجراء کے لئے زیر التواء ہیں اور وہ پہلے ہی ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کرا چکے ہیں، انہیں بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے لائسنس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بار کونسل کے مطابق یہ اقدامات بار کونسل میں جعلی ڈگریوں کے داخلے کو روکنے اور نظام میں شفافیت لانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

