Untitled 2026 01 31T155246.755

پی آئی اے کی نجکاری،عارف حبیب کنسورشیم کی شمولیت اور اصلاحاتی عمل

اکرام بکائنوی

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی نجکاری پاکستان کی معاشی اور انتظامی تاریخ کے ان معاملات میں شامل ہے جن پر جذباتی ردِعمل اور ادھوری معلومات نے حقیقت کو اکثر دھندلا دیا ہے۔ یہ قومی ادارہ صرف تجارتی ادارہ نہیں بلکہ ایک قومی علامت رہا ہے، جس کا تعلق ریاستی وقار، سفارتی تعلقات اور بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کی سہولت سے جڑا ہے۔ اسی لیے اس کی نجکاری کا معاملہ محض منافع و نقصان کے تناظر میں نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری، عوامی مفاد اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
Untitled 2026 01 31T155016.198
پی آئی اے کی باقاعدہ ابتداء 1955ء میں ہوئی، جب حکومتِ پاکستان نے اورینٹ ایئرویز کو قومی تحویل میں لے کر ایک مضبوط قومی ایئرلائن قائم کی۔ ابتدائی دور میں ادارے نے غیر معمولی ترقی کی، جدید بیڑے حاصل کیے، تربیت یافتہ عملہ تیار کیا اور ایشیا، افریقہ اور یورپ میں عالمی شناخت حاصل کی۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائیاں پی آئی اے کا سنہرا دور کہلاتی ہیں، جب یہ ادارہ نہ صرف منافع بخش تھا بلکہ عالمی سطح پر انتظامی معیار کی مثال بھی سمجھا جاتا تھا۔

تاہم 1980ء کے بعد مسائل نمایاں ہونے لگے۔ سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیاں، انتظامی تسلسل کی کمی، مالی خسارے اور عالمی ایوی ایشن مارکیٹ میں غیر مسابقتی صورتحال نے ادارے کی بنیادیں کمزور کیں۔ ملازمین کی تعداد عالمی معیار سے زیادہ ہو گئی جبکہ فلیٹ کی تجدید اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ کم ہوئی۔ نتیجتاً آپریشنل لاگت میں اضافہ اور آمدنی میں کمی واقع ہوئی۔یہ خسارے ریاستی خزانے پر واضح بوجھ بن گئے۔ بیل آؤٹ پیکیجز، قرضوں کی گارنٹیاں اور واجبات کی ادائیگی نے عوامی وسائل کو محدود کیا۔ یہی صورتحال نجکاری کے متبادل اختیار کو جواز فراہم کرتی ہے، کیونکہ نجی شعبہ عمومی طور پر نظم و نسق، احتساب اور کارکردگی میں بہتری کے امکانات فراہم کرتا ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری پر پہلی سنجیدہ بحث 1990ء کی دہائی میں سامنے آئی۔ اس وقت شیئرز کی فروخت، جزوی نجکاری اور اسٹریٹجک سرمایہ کار کی شمولیت کے مختلف ماڈلز زیرِ غور آئے، مگر سیاسی عدم استحکام اور ادارے کے اندرونی مسائل کے باعث یہ کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔ بعد ازاں مختلف حکومتوں نے نجکاری کے منصوبے پیش کیے، لیکن ہر بار عمل کسی نہ کسی مرحلے پر رک جاتا رہا۔تازہ ترین صورتحال میں پی آئی اے کی نجکاری ایک تاریخی سنگ میل پر پہنچی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اپنے 75 فیصد حصے کی فروخت کے لیے بولیاں طلب کیں، اور متعدد کنسورشیمز نے حصہ لیا۔ سب سے بلند بولی Arif Habib Group-led consortium نے دی، جس کے نتیجے میں 75 فیصد شیئرز کی فروخت کے لیے معاہدہ دستخط کے مراحل تک پہنچ گیا۔ اس کنسورشیم میں Arif Habib Corporation Limited، Fatima Fertilizer Company Limited، The City School (Pvt) Ltd، Lake City Holdings (Pvt) Ltd شامل ہیں۔ حکومت کے پاس باقی 25 فیصد حصہ برقرار رکھا گیا ہے تاکہ قومی مفادات اور اسٹریٹجک کنٹرول محفوظ رہے۔
423681 4863218 updates
جن دستاویزات پر دستخط ہوئے وہ عموماً اظہارِ دلچسپی، مفاہمتی یادداشتیں، کنسلٹنسی معاہدے اور نجکاری فریم ورک کی منظوری سے متعلق تھے۔ قانونی معنوں میں فروخت اس وقت مکمل سمجھی جاتی ہے جب ملکیت منتقل ہو، انتظامی کنٹرول خریدار کے حوالے کیا جائے اور سرکاری گزٹ میں توثیق ہو۔ پی آئی اے کے معاملے میں یہ مراحل ابھی جاری ہیں۔

نجکاری کے عمل میں ملازمین، قومی مفاد اور اسٹریٹجک ذمہ داری اہم عوامل ہیں۔ ملازمین کی تعداد اور مستقبل نے نجکاری کے ہر مرحلے میں اثر ڈالا، اور حکومتی عہدیداروں نے واضح کیا کہ ملازمین کے حقوق، اجرتیں اور سروس کنڈیشنز محفوظ رہیں گی۔ اسی طرح، قومی اور سٹریٹجک مفاد کے پیش نظر حکومت نے 25 فیصد حصہ اپنے پاس رکھا تاکہ مخصوص قومی مفادات کا تحفظ ممکن ہو اور ریاست کی موجودگی برقرار رہے۔
عالمی تجربات بھی بتاتے ہیں کہ نجکاری سے قبل ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف عمل ضروری ہوتے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری اسی اصول پر مبنی تھی کہ پہلے خسارے کو قابو میں لایا جائے، بیلنس شیٹ کو مضبوط کیا جائے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ خریدار نے وعدہ کیا ہے کہ بعد از نجکاری مزید سرمایہ کاری اور بحالی کے اقدامات کیے جائیں گے۔

تحقیق کے مطابق پی آئی اے کے خریدار ایک واحد کمپنی نہیں بلکہ یکجا کاروباری گروپز کا کنسورشیم ہے، جس کی قیادت Arif Habib Group کر رہا ہے۔ یہ کنسورشیم بولی میں سب سے زیادہ پیشکش دے کر نجکاری کے عمل کو عملی سنگ میل تک لے گیا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری ایک طویل اور پیچیدہ عمل رہا ہے جس میں تاریخی پس منظر، مالی خسارے، خریداروں کی بولیاں، قومی مفادات اور ملازمین کے حقوق کا توازن شامل ہے۔ تازہ ترین معاہدہ جسے Arif Habib Group-led consortium کے ساتھ طے پایا، اسے محض فروخت کے عمل تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک جامع اصلاحاتی عمل اور مستقبل کی بحالی کے امکان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے.
Untitled 2026 01 06T082055.674

اپنا تبصرہ لکھیں