426299 7054202 updates

ذاتی اخلاقیات اور ہمدردی قانون کی جگہ نہیں لے سکتی؛ وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ججز کو جذبات نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے،عدالتیں ذاتی اخلاقیات اور ہمدردی سے قانون کی جگہ نہیں لے سکتیں۔

سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے طالبعلم کو سپیشل سپر سپلیمنٹری امتحان میں بیٹھنے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت وفاقی عدالتی عدالت میں ہوئی۔
court order
وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا طالبعلم کو اسپیشل سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں سپیشل سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، ہائیکورٹس ہمدردی یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر حکم جاری نہیں کر سکتیں۔

عدالت نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے، عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل میں ہے، ججز کو قانون کے مطابق بلاخوف و امتیاز انصاف کرنا ہوتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں لکھا ہے کہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے، ججز نجی افراد نہیں بلکہ غیرجانبدار منصف ہوتے ہیں، ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف ہے۔

عدالت فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں، پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا، ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں.

ہائیکورٹس آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں، ہائیکورٹس صرف وہی اختیار استعمال کرسکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو۔

یاد رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے اور طالبعلم طبی وجوہات کی بنا پر سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے تھے۔

طالبعلم نے وائس چانسلر کو دو درخواستیں دی تھیں، یونیورسٹی نے دونوں درخواستیں مسترد کر دی تھیں، طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر سندھ ہائیکورٹ نے طالبعلم کو سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں