اکرام بکائنوی
زندگی کے سفر میں انسان کے لیے سب سے مشکل سبق یہ ہے کہ دوسروں کے رویوں سے متاثر ہوئے بغیر اپنی سمت درست رکھے۔ مگر یہ بات سمجھنا آسان نہیں، کیونکہ انسان فطری طور پر جذباتی مخلوق ہے۔ وہ ردِعمل دیتا ہے، محسوس کرتا ہے، اور دوسروں کے برتاؤ سے خود کو پرکھتا ہے ۔ منفی رویے، چاہے کسی دوست کا ہو، خاندان کے فرد کا یا سماج کا، انسان کے دل میں ایسی لکیریں چھوڑ جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتی نہیں بلکہ شعور کا حصہ بن جاتی ہیں۔ انہی تلخ تجربات سے انسان کی سوچ پختہ ہوتی ہے، اور یہی حقیقت اسے سکھاتی ہے کہ تجربہ ہمیشہ دھکے کھا کر ہی حاصل ہوتا ہے۔انسانی فطرت کے اس پہلو کو سمجھنے کے لیے یہ ماننا ضروری ہے کہ ہر رویہ دراصل ایک داخلی کیفیت کا اظہار ہے۔ جو انسان دوسروں کے ساتھ سختی کرتا ہے، وہ دراصل اپنے اندر کے خوف، ناکامی یا احساسِ کمتری کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
منفی رویے اکثر کمزور ذہن کی علامت ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ یہ انسان کے اعتماد، خودی اور حوصلے پر براہِ راست حملہ کرتے ہیں۔ ایسے رویے ایک عام شخص کو اندر سے توڑ سکتے ہیں، مگر ایک باشعور انسان انہیں اپنی تربیت کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دھکے کھا کر تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ دنیا میں کوئی کامیاب شخص ایسا نہیں جس نے زندگی کے دھکوں کا سامنا نہ کیا ہو۔ تکلیف، انکار، غلط فہمی، حسد، نفرت اور مایوسی یہ سب انسانی تجربے کے وہ مراحل ہیں جن سے گزر کر انسان مضبوط ہوتا ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ ان دھکوں کے بعد بکھر جاتے ہیں، اور کچھ انہی دھکوں سے سیکھ کر خود کو سنوارتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو جان لیتے ہیں کہ تجربہ کتابوں سے نہیں، زندگی کے صدمات سے ملتا ہے۔ ہر دھکا، ہر تلخی، دراصل آئینہ ہے جو انسان کو اپنی کمزوری، اپنی غلطی اور اپنی قوت دکھاتا ہے۔
جب انسان پہلی مرتبہ کسی منفی رویے کا سامنا کرتا ہے، تو اس کا ردِعمل زیادہ تر جذباتی ہوتا ہے۔ وہ الجھتا ہے، لڑتا ہے، یا خود کو الزام دیتا ہے، لیکن جب یہی تجربہ بار بار سامنے آتا ہے تو اس کے اندر ایک بصیرت پیدا ہونے لگتی ہے۔ وہ سیکھتا ہے کہ ہر کسی سے انصاف کی توقع نہیں رکھی جا سکتی، ہرمسکراہٹ مخلص نہیں ہوتی، اور ہر رشتہ دیرپا نہیں ہوتا۔ یہاں سے وہ صبر، سمجھ اور تحمل کا سبق حاصل کرتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی شخصیت میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے برتاؤ کو اپنے معیار کا پیمانہ نہیں بناتا بلکہ خود کو بہتر بنانے کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے زخموں کو طاقت میں بدل دیتا ہے، اور یہ تبدیلی ہمیشہ دھکے کھا کر ہی آتی ہے۔
منفی رویوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ معاشرتی زوال کی علامت ہوتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں حسد، خودغرضی، بدگمانی اور الزام تراشی عام ہو جاتی ہے تو افراد کے درمیان اعتماد کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کی کامیابی کو برداشت نہ کر پانا، یا دوسروں کو نیچا دکھانے کی خواہش یہ وہ رویے ہیں جو نہ صرف تعلقات بلکہ اجتماعی اخلاق کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں حساس اور باصلاحیت افراد زیادہ دھکے کھاتے ہیں کیونکہ وہ ان رویوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ مگر یہی مزاحمت انہیں تجربہ دیتی ہے، انہیں حقیقت شناس بناتی ہے، اور وہ جان لیتے ہیں کہ دنیا میں ہر کسی کا معیار وہ نہیں ہوتا جو خود کے اندر دیکھا جاتا ہے۔ اس شعور کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے، مگر یہی شعور انسان کو پختہ اور باوقار بنا دیتا ہے۔
تجربہ دھکے کھا کر حاصل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہمیشہ دکھ سہتا رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی غلطیوں، محرومیوں اور ناکامیوں سے سبق نکالنے کا ہنر سیکھ لے۔ ہر ٹھوکر میں ایک اشارہ ہوتا ہے، ہر نقصان میں ایک نصیحت چھپی ہوتی ہے۔ کامیابی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ اگر انسان راستے کی ناہمواری کو رکاوٹ نہیں بلکہ رہنمائی سمجھے، تو ہر مشکل اسے بہتر سمت میں لے جاتی ہے۔ یہی سوچ انسان کو مایوسی سے بچاتی ہے۔ ایسے لوگ جو دھکے کھا کر بھی آگے بڑھتے ہیں، وہی اصل میں تجربہ کار کہلاتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہر دھکے کو اپنی اگلی کامیابی کا زینہ بناتے ہیں۔
انسانی نفسیات کے ماہرین بھی کہتے ہیں کہ تکلیف اور دھچکا دراصل ذہن کی تربیت کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ جب انسان کسی ناکامی یا منفی رویے کا سامنا کرتا ہے تو اس کے اندر دو راستے بنتے ہیں ایک شکست کا، دوسرا شعور کا۔ جو لوگ شکست کو قبول کر لیتے ہیں، وہ تلخی میں پھنسے رہتے ہیں، مگر جو شعور کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہی اپنے دکھ کو تجربہ بنا لیتے ہیں۔ یہی تجربہ انہیں زندگی کے پیچیدہ راستوں پر سنبھل کر چلنا سکھاتا ہے۔ تجربہ ہمیشہ قربانی مانگتا ہےوقت کی، احساس کی، اور کبھی کبھی رشتوں کی بھی۔ مگر جب انسان اس قربانی کا مفہوم سمجھ لیتا ہے تو پھر اس کا شعور عام نہیں رہتا۔منفی رویے انسان کے لیے ایک آئینہ ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ دوسروں میں جو برائیاں نظر آتی ہیں، ان کا عکس کہیں نہ کہیں خود انسان کے اندر بھی چھپا ہوتا ہے۔ یہی لمحہِ خود آگاہی ہوتا ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ دوسروں کا رویہ اس کے اختیار میں نہیں، مگر اپنا ردِعمل اس کے قابو میں ہے، تب وہ حقیقی معنی میں تجربہ کار بن جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کے رویے اسے ہلا نہیں سکتے، کیونکہ وہ سمجھ جاتا ہے کہ ہر تلخی دراصل اس کے صبر، ضبط اور کردار کا امتحان ہے۔ اور جو ان امتحانوں میں کامیاب ہو جائے، وہ زندگی کو محض جینے کا نہیں بلکہ سمجھنے کا ہنر حاصل کر لیتا ہے۔
سماج میں منفی رویوں کا مقابلہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب فرد اپنے اندر برداشت، بصیرت اور خاموشی پیدا کرے۔ خاموشی کا مطلب کمزوری نہیں بلکہ ضبطِ نفس ہے۔ جو شخص بولنے سے پہلے سوچنا سیکھ لیتا ہے، اور ردِعمل دینے سے پہلے خود کا جائزہ لیتا ہے، وہ دوسروں کے لیے روشنی بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کو بدل نہیں سکتے، مگر اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر ضرور کر دیتے ہیں۔ ان کی موجودگی خود ایک تجربہ بن جاتی ہے۔ اور یہ تجربہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو دھکے کھا کر سیکھے ہیں۔تجربے کی ایک اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی سے منتقل نہیں ہو سکتا۔ ہم دوسروں کی کہانیاں سن کر متاثر تو ہو سکتے ہیں، مگر سمجھ صرف وہی آتی ہے جو خود محسوس کی جائے۔ کتابی علم کبھی وہ بصیرت نہیں دے سکتا جو ایک دھوکے، ایک نقصان یا ایک تلخ رویے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان جتنا زیادہ زندگی کے جھٹکے برداشت کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ حقیقت شناس ہو جاتا ہے۔ تجربہ انسان کو بنا بھی دیتا ہے اور توڑ بھی دیتا ہےفیصلہ صرف اس کا ہوتا ہے کہ وہ ان دھکوں سے کیا اخذ کرتا ہے۔آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زندگی میں آنے والی مشکلات، لوگوں کے منفی رویے، اور دنیا کی بے انصافی یہ سب مل کر ہمیں وہ بناتے ہیں جو ہم بننے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ہر زخم کے نیچے ایک سبق چھپا ہوتا ہے، اور ہر دھکے کے بعد ایک دروازہ کھلتا ہے۔ انسان کا کمال یہ نہیں کہ وہ دھکے نہ کھائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر دھکے کے بعد خود کو بہتر بناتا جائے۔ کیونکہ آخرکار تجربہ وہ خزانہ ہے جو صرف انہی کو ملتا ہے جو زندگی کی سخت زمین پر گرتے بھی ہیں، سنبھلتے بھی ہیں، اور آخر میں مسکرا کر کہتے ہیں: ہاں، تجربہ واقعی دھکے کھا کر ہی حاصل ہوتا ہے۔اس لئے کہتے ہیں…..
"زندگی کے دھکے ہمیں توڑنے نہیں آتے، بلکہ جگانے آتے ہیں۔ جو ان سے سیکھ لے، وہ دنیا کا تجربہ نہیں بلکہ خود زندگی کا فلسفہ پا لیتا ہے”۔



