اسلام آباد:نیب نے وزارت قانون و انصاف کو اہم قانونی ترامیم کی تجاویز ارسال کر دی ہیں۔
نیب کے مطابق50 کروڑ روپے سے کم کی کرپشن پر ایکشن نہ لینا احتساب کے عمل میں بڑی رکاوٹ ہے،کرپشن کیس میں ملزم کا ذاتی فائدہ ثابت کرنے کی شرط ختم کی جائے.
نیب تجویز کے مطابق اختیار کے غلط استعمال سے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر ہی سزا دی جائے،ملزم کا مالی فائدہ دیکھنا ضروری قرار دینا پیچیدگی کا باعث بنا ہے۔
دستاویز کے مطابق اب 100 سےکم متاثرین والے دھوکہ دہی کیسز نیب کے دائرہ اختیارسے باہرہیں، 100 متاثرین کے انفرادی بیانات ریکارڈ کرنے کی شرط کیسز میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ ہے.
احتساب عدالتوں میں ایک ریفرنس کا فیصلہ ہونے میں اوسطاً 6 سال کا عرصہ لگ رہا ہے، ملک بھر میں 23 میں سے صرف 16 احتساب عدالتیں فعال، 7 بند پڑی ہیں، تمام احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے بہتری آ سکتی ہے۔
