اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی۔ صدر آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین خان سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی نے شرکت کی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے۔ تقریب میں وفاقی وزراء، ارکان پارلیمان اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر ہوگئے تھے۔ صدرمملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے جسٹس امین الدین کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کرنےکی سفارش صدر کو بھجوائی تھی۔
جسٹس امین الدین خان یکم دسمبر 1960 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق اس وقت کے ایک مشہور وکیل، خان صادق محمد احسن ایڈووکیٹ (مرحوم) کے ایک بہت ہی معزز خاندان سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کنڈر گارٹن مسلم سکول ملتان سے حاصل کی۔ انہوں نے 1977ء میں گورنمنٹ مسلم ہائی سکول، ملتان سے سیکنڈری سکول ایجوکیشن مکمل کی۔ انہوں نے 1981ء میں فلسفہ کے مضامین میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور 1984 میں یونیورسٹی لاء کالج، ملتان سے ایل ایل بی (LL.B) اور ٹیکسیشن لاء میں ڈپلومہ مکمل کیا۔
جسٹس امین الدین خان نے اپنے والد کے جونیئر کے طور پر وکالت کا آغاز کیا اور 1985 میں لوئر کورٹس میں پریکٹس کرنے کا لائسنس حاصل کیا۔ وہ 1987 میں لاہور ہائیکورٹ اور 2001ء میں سپریم کورٹ میں وکالت کا لائسنس حاصل کیا. انہوں نے 2001 میں ملتان میں ظفر لاء چیمبرز (Zafar Law Chambers) میں شمولیت اختیار کی اور جج کے عہدے پر ترقی تک وہیں رہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر سول سائیڈ میں ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک پریکٹس کی اور سپریم کورٹ میں جائیداد، شفع (pre-emption) اور وراثت سے متعلق مشہور اور اہم مقدمات میں پیش ہوئے۔ یہ مضامین ان کے پسندیدہ مضامین بھی رہے۔
جسٹس امین الدین خان 12 مئی 2011ء کو جج لاہور ہائیکورٹ کے عہدے پر فائض ہوئے۔ جج کی حیثیت سے اپنے کیریئر کے دوران، جسٹس امین الدین خان نے بہاولپور بینچ، ملتان بینچ اور پرنسپل سیٹ، لاہور میں سول نوعیت کے ہزاروں قدیم ترین مقدمات کا فیصلہ کیا اور ان کے زیادہ تر فیصلے سپریم کورٹ آف پاکستان نے برقرار رکھے۔
جسٹس امین الدین خان نے 1977 میں ایشین جمبوری ایران میں بوائے سکاؤٹ کے طور پر پاکستان کی نمائندگی کی اور صدر پاکستان کی جانب سے انہیں سیش (sash) سے نوازا گیا۔جسٹس امین الدین باسکٹ بال کے بہترین کھلاڑی رہے، 1983 سے 1985 تک ڈسٹرکٹ ملتان کی طرف سے باسکٹ بال کھیلی آپ ملتان یوتھ کلب کی طرف سے کھیلتےتھے ڈسٹرکٹ باسکٹ بال چیمپئن شپ میں بھی حصہ لیا.
جسٹس امین الدین خان یونیورسٹی لاء کالج، ملتان میں مختلف مضامین کے ممتحن (Examiner) اور لیکچرر بھی رہے۔لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر وہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور سمیت مختلف یونیورسٹیوں کی سنڈیکیٹ کے ممبر بھی رہے۔جسٹس امین الدین خان 21 اکتوبر 2019 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر فائض ہوئے،اور 5 نومبر 2024ء کو آئینی بینچ کے سربراہ مقرر ہوئے۔


