Untitled 2026 02 13T204314.139

درخت کاٹنے پر قانونی ترمیم کر کے ناقابل ضمانت دفعات شامل کی جانی چاہیئں: لاہور ہائیکورٹ

لاہور:ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ درختوں کو کاٹنے والے ملزموں کی ضمانت نہیں ہونی چاہئیے۔

عدالت نے درختوں سے متعلق جامع پالیسی بنانے کی رپورٹ آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
Untitled 2026 02 13T210859.564
سماعت کے دوران ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کمیشن کی سربراہی میں درختوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ طے پایا کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل کمیشن سے مشاورت کی جائے گی۔

جسٹس شاہد کریم نے پی ایچ اے کے وکیل بیرسٹر حارث عظمت کے تاخیر سے پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ وکیل پیش نہیں ہو سکتے تو ادارے کی جانب سے کوئی اور نمائندہ عدالت میں پیش ہو، عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے کا رویہ انتہائی قابل افسوس ہے۔

دوران سماعت پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا.

یونیورسٹی کے وکیل نے بتایا کہ شیخ زید سینٹر سے 60 بڑے درخت کاٹے جانے کے معاملے پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، یونیورسٹی میں اب تک پانچ سو درخت لگائے جا چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ نئے درخت لگانے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ واضح عدالتی احکامات کے باوجود درختوں کی کٹائی تشویشناک ہے، پنجاب یونیورسٹی جیسے تاریخی ادارے میں میاواکی طرز پر جنگل لگایا جائے۔

پی ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درختوں کی کٹائی پر مقررہ سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ملزمان فوری ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں.

اس پر عدالت نے کہا کہ جب تک ضمانتیں ہوتی رہیں گی درختوں کی کٹائی نہیں رکے گی، عدالت نے استفسار کیا کہ پراسکیوٹر جنرل پنجاب سے بات کی جائے کہ ضمانتیں کیسے ہو رہی ہیں اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت دی جائے کہ قانون میں ترمیم کر کے ناقابل ضمانت دفعات شامل کی جائیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ یہ کارروائی کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مفاد میں کی جا رہی ہے، عدالت نے 16 فروری کو عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ لکھیں