ملتان:عدالتوں میں لازمی بائیو میٹرک سسٹم کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت کے باہر وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وکلاء نے عدالتوں میں جا کر بھی نعرے بازی کی اور بائیو میٹرک ختم ہونے تک کام سے روکنے کا اعلان کیا۔
پنجاب بھر میں لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر عدالتوں میں سائل کے کسی بھی معاملے کے لئے پیش ہونے سے قبل لازمی بائیو کے خلاف وکلاء نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا۔
اس موقع پر سابق صدور ہائیکورٹ بار ملتان سید ریاض الحسن گیلانی، سید اطہر حسن شاہ بخاری، سابق صدور ڈسٹرکٹ بار ملک محبوب سندیلہ، ناظم خان، سابق نائب صدر ڈسٹرکٹ بار خالد خان بلوچ سید ذاکر حسین نقوی، اقبال مہدی زیدی، رانا معراج خالد، ظفر اللہ وڑائچ، سید سلیم نقوی، محمد کامران، ملک شاہد، غلام نبی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں سائلین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کا نظام غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہا ہے اور انصاف کے حصول کے عمل کو سست بنا رہا ہے۔ اس لئے اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔
وکلاء نے خبردار کیا کہ اگر اس اقدام کو واپس نہیں لیا گیا تو وکلاء اپنی احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دیں گے۔ وکلاء نے مطالبہ کیا کہ عدالتی نظام میں ایسے اقدامات متعارف کرائے جائیں جو انصاف کی فراہمی کو آسان بنائیں نہ کہ مزید پیچیدگیاں پیدا کریں۔
مظاہرے میں ملتان بار کے وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاج کے دوران وکلاء نے عدالتوں میں جا کر نعرے بازی کی اور بائیو میٹرک ختم ہونے تک عدالتوں میں کام کرنے سے روکنے کا بھی اعلان کیا۔
وکلاء نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں بھی نعرے بازی کی، تاہم وکلاء کے احتجاج کے دوران ججز موجود نہیں تھے۔
احتجاج کے دوران وکلاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور بائیومیٹرک نظام کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

