lahore sahiwal motorway

لاہور،ساہیوال،بہاولنگر موٹروے؛ مس انفارمیشن پھیلانے بارے حکومت کی وضاحت جاری

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کو مکمل طور پر منظور نہیں کیا گیا اور نہ ہی مالیاتی قواعد یا وزیراعظم کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
Untitled 2026 01 11T223208.451
احسن اقبال کی وضاحت ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) نے 465 ارب روپے لاگت کے موٹروے منصوبے کی مشروط منظوری دے دی ہے، حالانکہ اس منصوبے کی فنڈنگ، ڈیزائن اور نیشنل فِسکل پیکٹ سے مطابقت پر تحفظات موجود تھے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت دو سال پرانے تخمینوں کے مقابلے میں 201 ارب روپے زیادہ ہے اور اس سے سی پیک کے تحت ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی افادیت متاثر ہو سکتی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق یہ معاملہ 6 جنوری 2026 کو سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں زیر بحث آیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فورم نے صرف اس 18.5 کلومیٹر طویل حصے کو، جو لاہور رنگ روڈ ہلوکی سے راجہ جنگ انٹرچینج (قصور روڈ) تک ہے، ایکنک میں غور کے لیے پیش کرنے کی سفارش کی ہے، جو پہلے ہی منظور شدہ تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ باقی 276.5 کلومیٹر طویل روٹ کو کسی قسم کی حتمی منظوری نہیں دی گئی بلکہ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تفصیلی تکنیکی فزیبلٹی اور معاشی افادیت کے مطالعے مکمل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ محدود مالی گنجائش کے پیش نظر وزارت مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سمیت متبادل مالی ذرائع تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ دیگر اہم منصوبے متاثر نہ ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ ترجیحی منصوبوں میں سکھر–حیدرآباد موٹروے، قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ، این 55 کی ڈوئلائزیشن، لواری ٹنل کے برقی و مکینیکل کام، کے پی اکنامک کوریڈور، پاکستان ایکسپریس وے اور ہوشاب–خضدار روڈ شامل ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ باقی موٹروے حصوں کو صرف اصولی منظوری دی گئی ہے اور حتمی فیصلہ وزیراعظم کی ہدایات، قانونی تقاضوں اور فزیبلٹی رپورٹس کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں