اسلام آباد: ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا ۔ جسٹس طارق جہانگیری کا سنگل بینچ کے بجائے دو رکنی بینچ کی تشکیل اور اس میں چیف جسٹس کی شمولیت کا اعتراض مسترد کر دیا ۔ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی فریق بنانے کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی ۔
تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ جج کی ڈگری سے متعلق سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی اختیارات کے تحت دو رکنی بینچ تشکیل دیا گیا۔ بینچز کی تشکیل چیف جسٹس ہائیکورٹ کا صوابدیدی اختیار ہے اور خصوصی بینچ کی تشکیل کوئی پہلی مثال نہیں ۔
عدالت نے جسٹس جہانگیری کا چیف جسٹس پر تعصب سے متعلق اعتراض بھی مسترد کرتے ہوئے کہا اس حوالے سے کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا۔ ججز کی چیف جسٹس کے تبادلے کے خلاف اپیل پہلے ہی وفاقی آئینی عدالت سے مسترد ہو چکی۔
عدالت نے جسٹس جہانگیری کو پٹیشن کا مکمل ریکارڈ اور یونیورسٹی کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کو فریق بنانے کی استدعا مسترد کر دی گئی ۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل کو لازمی طور پر سنا جائے گا۔
گزشتہ روز سماعت میں جسٹس طارق جہانگیری وکیل سمیت خود عدالت پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے فاضل چیف جسٹس سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ایک کولیگ نے دوسرے کو کام سے روکا ہو۔ دنیا کی کوئی مثال بتا دیں جہاں کسی چپراسی کو بھی یوں کام سے روکا گیا ہو۔آپ کو وارنٹو کی رٹ میں ایسا نا کریں اگر یہ عدالتی نظیر قائم کریں گے تو تباہ کن اثرات ہوں گے۔ایسا پنڈوراباکس نہ کھولیں پھر سب کے خلاف یہ کام شروع ہو جائے گا۔سپریم جوڈیشل کونسل موجود ہےاُسے ہی یہ معاملہ دیکھنے دیا جائے۔
جسٹس طارق جہانگیری نے قرآن پاک پر حلف دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ڈگری بالکل اصلی ہے ۔یونیورسٹی نے بھی ڈگری جعلی قرار نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ صرف تین دن کا نوٹس دیا گیا اور پٹیشن کی کاپی بھی فراہم نہیں کی گئی حالانکہ یہ چونتیس سال پرانا معاملہ ہے ایسی کیا جلدی ہے۔

