اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان نے پراپرٹی کی فائلوں، بشمول پلاٹس، ولاز اور اپارٹمنٹس کی خرید و فروخت کی قانونی حیثیت، ریونیو اثرات اور ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی۔
یہ اقدام فراڈ، ٹیکس چوری اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق بڑھتے خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
اس کا مقصد ٹیکسوں کی درست وصولی کو یقینی بنانا اور رئیل اسٹیٹ کی خرید و فروخت کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مینڈیٹ سے متعلق یا اس سے جڑے دیگر امور کا بھی جائزہ لے سکتی ہے۔
کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی کے امور کی انجام دہی کیلئے ایف بی آر سیکریٹریل سپورٹ فراہم کرے گا۔
یہ کمیٹی اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک بڑے ہاؤسنگ سکینڈل کا انکشاف ہونے کے بعد تشکیل دی گئی ہے.
اس سکینڈل کی شائع رپورٹ کے مطابق، نجی ہاؤسنگ سکیموں اور سوسائٹیز نے مبینہ طور پر بغیر کسی زمین کے 90؍ ہزار سے زائد پلاٹس فروخت کئے ۔
فروخت کرنے والوںپر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے جعلی لینڈ بینکس کی تشہیر اور ممبرشپس جاری کر کے سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد سمیت خریداروں سے کئی ارب روپے وصول کئے.

