ملتان:ہائیکورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس سلطان تنویر احمد نےفیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے خلع لینے والی خاتون کو 26 فروری کو جواب پیش کرنے کے لئے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت میںدرخواست گذار فارس احمد لودھی کے وکیل سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ کی 24 جنوری کی مصالحت کی کاروائی ماورائے قانون و شریعت ہے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا۔

مذکورہ خاتون فاطمہ امجد نے ایک علیحدہ خلع کا مقدمہ بھی دائر کر دیا۔جو بعد ازاں واپس لے لیا گیا مقدمے کی سماعت کے دوران راضی نامے کے لیے درخواست گذار کی طرف سے مصالحت کار مقرر کرنے کی استدعا کی گئی لیکن فیملی کورٹ نے اس استدعا کو بلا وجہ مسترد کر دیا اور 24 جنوری کو خلع کی ایک ڈگری جاری کر دی جو کہ غیر قانونی ہے.
سیدریاض الحسن گیلانی نے درخواست میںقرآن و سنت اور دیگر تاریخی حوالے دیتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام میںصلح کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن فیملی عدالتوں کی جانب سے صرف خاتون کا بیان ریکارڈ کرکے اور گواہان کے بھی بناء خلع کی ڈگری جاری کی گئی ہے، جو نہ صرف شریعت اور شرعی اصولوںبلکہ مسلم فیملی لاءز کے بھی خلاف ہے.
عدالت سے استدعا کی گئی ہےکہ فیملی کورٹ ملتان کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کرنے کا حکم دیا جائے.
