اسلام آباد: 23 نومبر 2025ء کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے حوالے سے فافن نے رپورٹ جاری کر دی۔
فافن رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخابات مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، مبصرین نے پولنگ بوتھس پر پولنگ کو منظم اور پُرامن پایا۔رپورٹ کے مطابق انتخابی مہم کی پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزیاں سامنے آئیں، نتائج کی شفافیت میں خلاء اور تشویشناک حد تک کم ووٹر ٹرن آؤٹ سامنے آیا۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں پر کمزور عملدر آمد ایک مسلسل مسئلہ رہا۔ مشاہدہ کئےگئے 238 پولنگ سٹیشنوں کے قریب کم ازکم 465 سیاسی جماعتوں کے کیمپس دیکھے گئے، 184 پولنگ سٹیشنوں پر ووٹرز کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 98 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں بیلٹ باکس کے تمام 4 مطلوبہ سیل درست حالت میں پائے گئے، 96 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں سیکریسی سکرینیں درست طورپرنصب تھیں۔
فافن رپورٹ کے مطابق مبصرین نے پولنگ بوتھس پر پولنگ کو منظم اور پُرامن پایا، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران نے بیلٹ پیپر جاری کرنے کے درست طریقہ کار پر عمل کیا۔29 فیصد بوتھوں پر پریذائڈنگ افسران نے پہلے سے بیلٹ پیپر پر دستخط کیے ہوئے تھے، مشاہدے کے 28 فیصد بوتھوں پر بیلٹ پیپر پہلے سے مہرشدہ تھے، یہ عمل غیر قانونی نہیں تاہم بیلٹ کے غلط استعمال کے خدشات بڑھاسکتے ہیں۔
فافن رپورٹ کے مطابق 6 مشاہدہ پولنگ سٹیشنوں پر،پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا، مشاہدہ کے 19 فیصد پولنگ سٹیشنوں پر فارم 45 کو باہر بھی آویزاں نہیں کیا گیا، 19 فیصدسٹیشنوں پر فارم46 پولنگ ایجنٹس کو نہیں دیا گیا، 43 فیصدمشاہدہ پولنگ سٹیشنوں پر پریزائڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس سے فارمز پر دستخط نہیں کروائے۔
فافن رپورٹ کےمطابق 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے عمل پراطمینان کا اظہارکیا، گنتی کے بعد انٹرویو کیے گئے تمام 137 پولنگ ایجنٹس نے گنتی کے عمل پر اطمینان ظاہر کیا۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے 23 فیصد تک کم رہا، صرف ایک حلقہ ایسا تھا جہاں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سےزیادہ ریکارڈ ہوا۔
