اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کے قتل اور دہشت گردی کے مقدمے میں نامزد ملزم بری کردیئے۔سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پنڈی گھیب قتل اور دہشت گردی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے ملزمان کو دی گئی سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے۔
یاد رہے کہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا، جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے سب انسپکٹر محمد رمضان سمیت 6 اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ ملزموں پر آئل ٹینکرز کو آگ لگانے اور سرکاری اسلحہ چھیننے کا سنگین الزام بھی تھا۔
سپریم کورٹ نے ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا اورقرار دیا کہ ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے،ملزموںکی شناخت کا عمل مشکوک ہے، اور گواہان کے موقع پر موجود ہونے اور انہیں اتنے بڑے حملے میں کسی خراش کا نہیں آنا غیر فطری ہے، لہٰذا شناخت پریڈ قانونی طور پر ناقابل قبول اور غیر محفوظ ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شناخت پریڈ سے قبل ہی ملزموں کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی، پولیس کے مطابق ملزموں نے ایک کیس میں پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا، تاہم جس کیس میں اعتراف ہوا اس میں ملزم پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پہلے کیس میں بریت کے بعد ملزموں کا مبینہ اعتراف اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزموں کے خلاف ٹھوس اور آزادانہ شہادتیں پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے، اس لیے ملزموں کو بری کیا جاتا ہے۔
ٹرائل کورٹ نے ملزموں کو 6،6 بار سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں، جبکہ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزموں کو دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔
