Untitled 15

کمسن بچی کے اغواء اور قتل کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ گولڈن سٹینڈرڈ، سزائے موت برقرار

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصل آباد میں 6 سالہ فضا نور کے اغواء، زیادتی اور قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت عظمیٰ نے مجرم عبدالرزاق کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی، جبکہ ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو بھی برقرار رکھا گیا۔
429584 8286333 updates 1
فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 13 صفحات پر مشتمل تحریری صورت میں جاری کیا.

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ ملزم کی شناخت کے لیے گولڈ سٹینڈرڈ حیثیت رکھتا ہے۔

عدالت کے مطابق کم سن بچی کے ساتھ درندگی اور قتل جیسے سنگین جرم میں کسی قسم کی نرمی معاشرے کے لیے خطرہ ہے، جبکہ سزائے موت کا مقصد معاشرے میں عبرت قائم کرنا ہے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کی موت دم گھٹنے سے ہوئی، جبکہ میڈیکل معائنے میں زیادتی اور بدفعلی کی تصدیق بھی ہوئی۔

عدالت نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بچی کے ناخنوں اور کپڑوں سے حاصل کیے گئے نمونوں کا ڈی این اے پروفائل مجرم عبدالرزاق سے مکمل طور پر میچ کر گیا.

دورانِ تفتیش ملزم کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور بچی کی چپلیں بھی برآمد کی گئیں۔

یاد رہے کہ 6 سالہ فضا نور کو 2 جولائی 2018 کو فیصل آباد سے اغوا کیا گیا تھا، جب وہ گھر سے اشیائے خوردونوش لینے نکلی تھی، بچی کی لاش اسی روز رات 8 بجے تھانہ رضا آباد کی حدود سے ایک بورے سے برآمد ہوئی۔

ملزم عبدالرزاق کو واردات کے اگلے روز لاہور ایئرپورٹ سے بیرونِ ملک فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں