صفورا امجد
ڈینگی مچھر صرف ایک عام مچھر نہیں بلکہ ایک خاموش قاتل بھی ہے۔ یہ مچھر گندے پانی کے بجائے صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے۔ یعنی وہ پانی جسے ھم لا پرواہی سے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ مچھر دن کے وقت کاٹتا ہے۔ شروع میں ہلکا بخار لگتا ہے پھر جسم میں درد، جوڑوں میں کھچاؤ، سردرد کی شکایت اور جلد پر سرخ دھبے پڑنے لگتے ہیں. اور اس کے بعد کچھ ہی دنوں میں پلیٹلیٹس گرنے لگتے ہیں-
اکثر لوگ ڈینگی کو سنجیدہ نہیں لیتے جب تک ڈینگی اُن کے اپنے گھر دستک نہیں دیتا اور پھر وہی اسپتال کا منظر……..
اگر ڈینگی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی لوگ ڈینگی کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں کچھ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور بد قسمتی سے اس بیماری کا آغاز معمولی لاپرواہی سے ہی ہوتا ہے.
ڈینگی کے دوران مریض کو مکمل آرام دیں۔ یخنی، جوس اور دیگر مانع اشیاء کا استعمال کریں کیونکہ ڈینگی کےدوران جسم میں پانی کی کمی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اسپرین یا بروفن کا استعمال نہ کریں کیونکہ یہ ادویات خون پتلا کر دیتی ہیں اور اس طرح خون بہنے کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں ۔ اگر جسم پر دھبے یا خون بہنے لگے تو مریض کو فوراً اسپتال لے جائیں ۔
پاکستان ،بھارت، بنگلہ دیش، انڈو نیشیا اور سری لنکا میں ڈینگی کے لاکھوں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر کیسز مون سون میں سامنے آتے ہیں۔ حکومت ہر سال ڈینگی مہم کا آغاز کرتی ہے لیکن مسئلہ تب حل ہوگا جب ھم اپنے گھر سے احتیاط شروع کریں گے۔کولروں اور گملوں میں پانی کھڑا نہ رہنے دیں۔ ٹینکوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ مچھر بھگانے والے اسپرے اور کریم کا استعمال کریں۔ پوری آستین والے کپڑے پہنیں. اپنے گھروں اور محلے میں صفائی مہم کا آغاز کریں۔ کیونکہ صرف ایک انسان کی معمولی غلطی بھی پورے علاقے کے لیے مشکل کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر ھم تھوڑی سی ذمہ داری کا ثبوت دیں تو کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
مسلسل احتیاط اور بروقت علاج سے ڈینگی سے نمٹا جا سکتا ہے. نیز صفائی کا اہتمام کریں ۔ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ ڈینگی مچھر پیدا ہی نہ ہو۔ حکومت، میڈیا اور عوام کو مل کر اپنا کردار نبھانا ہوگا کیونکہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہے۔


