ویب نیوز:آرٹیفیشل انٹیلجنس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے باوجود خلیجی ممالک میں مستقبل میں لاکھوں محنت کشوں کی ضرورت ہوگی۔
خلیجی ممالک میںمحنت کشوںکی مانگ میںکمی واقع نہیںہوئی اور اس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، یہ مانگ ذیادہ تر پاکستان، افغانستان، بھارت، فلپائن جیسے ممالک سے پوری ہورہی ہے.
اس ضمن میںامریکی اور برطانوی ریسرچ رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں 2030 تک 15 لاکھ سے زائد محنت کشوں کی ضرورت پڑے گی۔
تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں آرٹیفیشل انٹیلجنس کے باوجود لاکھوں محنت کش درکار ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 12 فیصد افرادی قوت میں اضافہ متوقع ہے جبکہ سعودی عرب میں 11 فیصد افرادی قوت میں اضافے کا امکان ہے۔
