Untitled 2025 12 25T084640.679

دمدمہ ملتان؛قدیم ہندو ادوار سے مسلم، سکھ دور تک ارتقاء اور عسکری اہمیت

سید خالد جاوید بخاری

قلعۂ ملتان میں واقع دمدمہ کی تاریخی، مذہبی اور عسکری حیثیت بہت اہمیت کا حامل ہے۔قبل از اسلام ہندو مذہبی کتب، عرب و فارسی مؤرخین کے بیانات، نوآبادیاتی ریکارڈ اور جدید آثارِ قدیمہ کی رپورٹس کو بنیاد بناکر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دمدمہ ایک ہی دور کی تعمیر نہیں بلکہ ایک تہذیبی تسلسل ہے، جس کا نام، کردار اور ساخت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی۔ ہر دور میں دمدمہ نے ملتان کی سیکیورٹی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
Untitled 2025 12 25T084652.947
قلعہ ملتان (Multan Fort) جنوبی ایشیا کے قدیم ترین قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ یونانی، ہندو، بدھ، اسلامی، سکھ اور برطانوی ادوار سے گزرنے کے باوجود قلعہ ملتان مسلسل فوجی و انتظامی مرکز رہا۔ قلعے کا دمدمہ اس تاریخی تسلسل کی سب سے نمایاں مثال ہے۔موجودہ دمدمہ ملتان کا قدیمی نام،
قدیم ہندو مذہبی و تاریخی متون میں ملتان کو مولستھان کہا گیا ہے۔ اس دور میں قلعے کے بلند اور محفوظ مقام کو دُرگ (Durga) – ناقابلِ تسخیر قلعہ
اُچّ دُرگ – بلند دفاعی مقام، پراکَار – فصیل یا بلند دیوار ناموں سے تعبیر کیا جاتا تھا.

سوریہ دُرگ – سورج مندر کے تحفظ سے وابستہ قلعہ،یہ نام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دمدمہ کی ابتدائی شکل ایک مقدس–دفاعی بلندی تھی ۔البیرونی لکھتے ہیں کہ”Multan was the greatest centre of Sun-worship in India, and its temple stood on a fortified height”. جس کا ترجمہ ہے کہ "ملتان ہندوستان میں سورج پرستی کا سب سے بڑا مرکز تھا، اور اس کا مندر ایک محفوظ اور بلند مقام پر قائم تھا”۔یہ اقتباس اس بات کی واضح شہادت ہے کہ ملتان میں ایک ایسا بلند مقام موجود تھا جو مذہبی تقدس اور دفاع دونوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہی مقام بعد میں دمدمہ کی صورت اختیار کرتا ہے۔

مسلم دور میں اس کے نام میں تبدیلی اور عسکری کردار کی تاریخ‌دیکھیں تو اسلامی فتح کے بعد محمد بن قاسم (712ء) کے بعد ملتان ایک مذہبی مرکز سےباقاعدہ اسلامی عسکری قلعہ بن گیا.اس دور میں قدیم مذہبی اصطلاحات کی جگہ فارسی و عربی فوجی اصطلاحات رائج ہوئیں۔مسلم دور اور مغل عہد میں اس بلند مقام کو برج، بلند مورچہ، یا دمدمہ کہا جانے لگا۔ملتان گزٹیئر (1901ء) کے مطابق:
"The fort of Multan possessed elevated bastions used for vigilance and defence”.یعنی "قلعہ ملتان میں بلند مورچے موجود تھے جو نگرانی اور دفاع کے لیے استعمال ہوتے تھے”۔یہ بیان ثابت کرتا ہے کہ مسلم دور میں دمدمہ کا کردار خالصتاً عسکری تھا، اگرچہ توپ خانے کا استعمال ابھی محدود تھا۔
Untitled 2025 12 25T084647.068
سکھ دور کے دوران رنجیت سنگھ کی مرمت اور عسکری مضبوطی کے تاریخی پس منظر کے مطابق 1818ء میں ملتان سکھ سلطنت کے قبضے میں آیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان کو اپنی سلطنت کا جنوبی دفاعی مرکز قرار دیا۔سکھ دور میں دمدمہ کی ازسرِ نو مرمت کرنے کے ساتھ دیواروں کی موٹائی میں اضافہ کیا گیا اور توپوں کے لیے ہموار پلیٹ فارم بنانے کے علاوہ فصیل اور دمدمہ کو ایک مربوط دفاعی نظام میں تبدیل کیا گیا. اس ضمن میں الیگزینڈر کننگھم لکھتے ہیں کہ "The Sikhs strengthened Multan Fort with heavy artillery platforms after its conquest”، کہ سکھوں نے ملتان کی فتح کے بعد قلعہ کو بھاری توپ خانوں کے پلیٹ فارم بنا کر مضبوط کیا”۔یہ اقتباس واضح کرتا ہے کہ دمدمہ کی موجودہ عسکری شکل بنیادی طور پر سکھ دور کی مرمت کا نتیجہ ہے، جس نے ملتان کی سیکیورٹی کو غیر معمولی حد تک مضبوط کیا۔

دمدمہ شہر پر دور تک نظر رکھنے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ حملہ آور افواج کے خلاف پہلا دفاعی نقطہ تھا. 1848–49ء کے محاصرۂ ملتان میں برطانوی فوج نے بھی اسی دمدمہ کو اپنی توپوں کے لیے استعمال کیا، جو اس کی عملی افادیت کا ثبوت ہے۔قبل از اسلام دمدمہ (اُچّ دُرگ / سوریہ دُرگ)
مقدس حثیت رکھنے کے ساتھ دفاعی اہمیت کا بھی حامل تھا. یہ تحقیق اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ دمدمہ کسی ایک حکمران یا دور کی تخلیق نہیں، بلکہ ایک مسلسل ارتقائی دفاعی ڈھانچہ ہے. جسے ہر دور نے اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالا،یوں قلعہ ملتان کا دمدمہ ملتان کی تہذیبی، مذہبی اور عسکری تاریخ کا جامع استعارہ ہے۔

حوالہ جات (References):
Al-Biruni — Kitab al-HindCunningham, A. (1871) —
Archaeological Survey of India Reports
Multan District Gazetteer (1901)
Latif, S.M. (1891) — History of the Punjab
R.C. Majumdar — Ancient India
Punjab Archaeology Department Reports (2005–2019)

Untitled 2025 06 04T010448.935
خالد جاوید بخاری
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں