مطیع اللہ مطیع
نقیب اللہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے کلی آرمبی مسے زئی کے رہائشی ہے ۔250درخت پر مشتمل باغ میں انار کے درخت سوکھے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ان کا یہ باغ اب موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی ایک جیتی جاگتی مثال بن چکا ہے۔نقیب اللہ کہتے ہیں کہ کاریز نظام سے باغ کو پانی دیاجاتاتھا لیکن بارشیں نہ ہونے سے کاریز میں پانی کم ہورہی ہے جس کی وجہ سے اب کاریز سے جو پانی ملتاہے وہ ناکافی ہے ۔
ورلڈ بینک کی کاریز ری ہیبلیٹیشن کے حوالے سے بلوچستان میں زیر زمین پانی کی مینجمنٹ کے حوالے ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بلوچستان میں کاریز کانظام صدیوں پرانا ہے یہ نظام طویل خشک سالی کے خلاف قدرتی تحفظ کے طورپر کام کرتاآیاہے بلوچستان میں1970ء کی دہائی میں 3ہزار کاریز نظام فعال تھے لیکن اب یہ لگ بھگ ایک ہزار تک رہ گئے ۔
مسے زئی کے29سالہ نقیب اللہ جو برسوں سے کاشتکاری سے وابستہ ہے آج بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ پانی کی شدید کمی نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔میرے والد زراعت کے شعبے سے وابستہ تھے اگر کاریز نظام کی بہتری یا زیر زمین پانی نکالنے کا کوئی بندوبست نہ کیا تو دوسرا روزگار تلاش کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان ان علاقوں میں شامل ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔بارشوں میں نمایاں کمی، درجہ حرارت میں اضافہ، اور زمین کی نمی میں کمی نے زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
گرائونڈ واٹر مینجمنٹ وکاریز رہیبیلیٹیشن رپورٹ کے مطابق کاریز نظام نے بلوچستان کے بالائی علاقوں میں زرعی منظرنامے کو بدلنے اور مقامی لوگوں کی سماجی و معاشی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیاتاہم 1960 کی دہائی سے جاری بار بار کی خشک سالیوں نے زیرِ زمین پانی کی قدرتی ریچارج (recharge) کو متاثر کیا یعنی وہ پانی جو کاریزوں کے ذخائر کو دوبارہ بھرتا ہے جب کہ دوسری طرف پانی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔اپنی روزی برقرار رکھنے کے لیے کسانوں نے ٹیوب ویل لگانے شروع کیے، جنہیں صوبائی حکومت کی جانب سے توانائی پر سبسڈی (یعنی بجلی یا ایندھن میں رعایت)حاصل تھی۔
رپورٹ کے مطابق1970 کی دہائی میں جہاں بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کی تعداد تقریبا 5,000 تھی، وہ اب بڑھ کر 40,000 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ٹیوب ویلوں کے اس تیز رفتار اضافے کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے بعض علاقوں میں سالانہ 5 میٹر (تقریبا 16 فٹ)سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔یہ تیزی سے گرتی ہوئی سطح کاریز نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی، اور ان میں سے کئی کاریز خشک ہو چکے ہیں۔
جامعہ بلوچستان سے وابستہ محقق اکٹر دوست محمد بریچ نے موسمیاتی تبدیلی کو سرحدوں سے ماورا خطرہ قرار دیتے ہوئے کلائمیٹ ڈپلومیسی، ایکو ٹورزم اور گرین اسکل ڈیولپمنٹ کی ضرورت پر زور دیا۔وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کی کمزوریوں کو پائیدار ترقی کے مواقع میں بدلنے کے لیے پالیسی، ٹیکنالوجی، اور کمیونٹی ایکشن کا انضمام نہایت ضروری ہے۔زرعی شعبے پر سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔اگر بلوچستان میں پانی کے انتظام، جدید زرعی طریقوں اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے تو حالات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔بلوچستان کے کسان محنتی ہیں۔ اگر حکومت انہیں سہولیات، تربیت اور وسائل فراہم کرے تو وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان کے صوبائی وزیر برائے زراعت میر علی حسن زہری کے مطابق زراعت کا شعبہ معیشت میں سب سے اہم اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ملکی معیشت میں24فیصد کا حصہ ہے جبکہ بلوچستان کے حوالے سے زراعت کے شعبے میں حصہ کم ہے لیکن بہتر حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ذریعے اس شعبے میں انقلاب لاکر صوبے کی معیشت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ بلوچستان میں زراعت کے شعبے کے فروغ اور بلوچستان کو زرعی شعبے میں آگے لانے کے لئے اہم اور دیرپا منصوبوں پر عمل کیا جائے گاجس کے لئے تیاریاں جاری ہیں۔ میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لئے صدر مملکت کی کاوشوں اور ہدایات کی روشنی میں بلوچستان کی زرعی ترقی و خوشحالی کے لئے بھرپورتوانائی کے ساتھ اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔
رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بلوچستان کے غریب عوام کے لیے پانی کی فراہمی کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کاریز نظام کو محفوظ اور بہتر بنایا جائے۔اس مقصد کے لیے عملی اقدامات میں شامل ہو سکتے ہیں:کاریزوں کے ری چارج زونز (Recharge Zones) کی نشاندہی،واٹر شیڈ مینجمنٹ اور آبی ذخائر کی بحالی کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے قدرتی ری چارج میں اضافہ،اور کاریز ری چارج زونز میں ٹیوب ویلوں کی تنصیب پر پابندی عائد کی جائے۔یہ اقدامات نہ صرف بلوچستان کے قدرتی ورثے کے تحفظ میں مددگار ہوں گے بلکہ صوبے کے غریب اور دیہی طبقات کے لیے پائیدار پانی کے وسائل بھی فراہم کریں گے۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔



