لیہ:امام مسجد نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے والی کمسن بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کیں، ویڈیو وائرل ہونے پر مقدمہ درج کر لیا گیا.
تھانہ چوبارہ میںایک شہری کی جانب سے 9 مارچ کو مقدمہ درج کرایا گیا کہ اس کو واٹس ایپ پر ایک ویڈیو موصول ہوئی، جس میں قریبی مسجد کا امام اس کی 7 سالہ بیٹی کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا.
جس پر بیٹی سے پوچھا تو بتایا کہ وہ دینی تعلیم کے لئے جاتی تھی تو مذکورہ امام مسجد اس کے ساتھ غلط حرکات کرتا اور خاموش رہنے کے لئے دھمکیاں بھی دیتاتھا، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے.
پولیس زرائع کے مطابق مذکورہ ملزم رنگ پور گاؤں کا رہنے والا ہے،درس و تدریس کا سلسلہ بارہ سال پہلے رنگ پور سے شروع کیا اور اپنے شاگرد کے ساتھ جنسی زیادتی کی تو لوگوں ُنے مسجد سے نکال دیا.
جس پر ملزم کوٹ ادو کے علاقہ چوک سرور شہید میںدرس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور اپنے شاگرد کے ساتھ جنسی زیادتی کی وہاں سے پھر نکلنا پڑا، اور اب لیہ کے علاقے میں درس و تدریس کے لئے ڈیرے ڈالے ہوئے تھا.
ملزم بچی کے ساتھ غلط حرکات کرتے ہوے سنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا کہ سنیپ چیٹ پر سٹوری لگ گئی، جو تمام لوگوں تک پہنچ گئی.
