لاہور: پنجاب بورڈ آف ریونیو میں 177 سال بعد انقلابی اقدام سے پنجاب کا ریونیو نظام ڈیجیٹل دور میں داخل ہو گیا۔ کرپشن، جھوٹے مقدمات، افسران کی من مانی، شہریوں کے قیمتی حقوق کو طویل عرصہ تک غصب کرنے کے نظام کے خاتمے کا دعویٰ بھی کر دیا گیا۔
برصغیر کے نوآبادیاتی دور میں 1849ء میں قائم ہونے والا بورڈ آف ریونیو پنجاب، جس نے دہائیوں تک فرسودہ کاغذی نظام، پٹواری کلچر اور دفتری پیچیدگیوں کے سائے میں کام کیا، اب 177 سال بعد ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ "ریونیو کورٹ کیس مینجمنٹ سسٹم (RCMS)” کے نفاذ کے ساتھ حکومت پنجاب نے دعویٰ کیا ہے کہ زمینوں کے مقدمات میں شفافیت، رفتار اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔بورڈ آف ریونیو پنجاب نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے "ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم” (RCMS) کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
اب پنجاب کی تمام ریونیو عدالتوں میں نئے مقدمات کا اندراج صرف اور صرف آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ 15 اپریل 2026 سے کوئی بھی دستی یا مینول درخواست قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اسے قانونی طور پر پروسیس کیا جائے گا۔
سب سے اہم اور سخت ہدایت یہ ہے کہ اب کوئی بھی اپیلٹ کورٹ ایسے کیس کو سرے سے سنے گی ہی نہیں جس کا فیصلہ نچلی عدالت نےآر ایس ایم سی کے ذریعے دائر نہیں کیا گیا ہو۔زرائع کے مطابق یہ فیصلہ ریونیو افسران کی من مانیوں کو روکنے اور عدالتی عمل کو مکمل شفاف بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو اس حکم پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا مینول کام کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف سنگین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اب آپ کے زمین کے مقدمات کا پورا ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا جسے کوئی غائب یا تبدیل نہیں کر سکے گا۔اس طرح سالہا سال سے ریونیو عدالتوں میں فائلیں گم ہونا اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے الزامات ایک عام سی بات بن چکے تھے جس سے سائلین دربدر ہو جاتے تھے۔ سائلین کو اپنے کیس کی اگلی تاریخ یا فیصلے کی نقل حاصل کرنے کے لیے کئی کئی ماہ تک سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ اسی فرسودہ نظام اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو نے اب جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
اس ڈیجیٹل سسٹم کا مقصد مقدمات کے اندراج سے لے کر حتمی فیصلے تک کے تمام مراحل کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ یہ نوٹیفکیشن ان تمام عناصر کے لیے ایک بڑی وارننگ ہے جو ریکارڈ میں ہیرا پھیری کر کے غریب سائلین کا حق مارتے تھے۔ اب پنجاب بھر کا ریونیو نظام ایک نئے، تیز رفتار اور شفاف ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے۔
لازمی ڈیجیٹل اندراج کے تحت اب 15 اپریل 2026 کے بعد تمام نئے ریونیو کیسز کا اندراج صرف آر ایس ایم سی کے ذریعے ہوگا۔اگر نچلی عدالت کا فیصلہ ڈیجیٹل سسٹم سے جاری نہیں ہوا، تو اسے کسی بھی اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ پنجاب بھر کے تمام کمشنرز اور ڈی سیز اس نئے ڈیجیٹل سسٹم پر عملدرآمد کروانے کے قانونی طور پر پابند ہوں گے۔ریونیو کورٹس میں کیس آن لائن دائری کے ساتھ 3500 روپے دائری فیس بھی ادا کرنا ہو گی۔
زرائع کے مطابق اس انقلابی تبدیلی سے عام شہری کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ "پٹواری کلچر” اور عدالتی عملے کے غیر ضروری اثر و رسوخ میں واضح کمی آئے گی۔ آپ کا کیس اب کسی اندھیرے کمرے میں فائلوں کے ڈھیر تلے نہیں دبے گا، بلکہ آن لائن مانیٹرنگ کی وجہ سے متعلقہ افسران مقررہ وقت پر فیصلے کرنے کے پابند ہوں گے۔
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بنیادی ڈھانچہ اور ڈیجیٹل خواندگی ابھی تک چیلنج ہے، وہاں اس طرح کے اقدامات بغیر مکمل تیاری کے عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔بلاشبہ، ڈیجیٹلائزیشن وقت کی ضرورت ہے اور ریونیو نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں، مگر اصل امتحان اس بات کا ہے کہ کیا یہ تبدیلی واقعی عام آدمی، خاص طور پر دیہی اور کم پڑھے لکھے سائلین کے لیے آسانی پیدا کرے گی یا ایک نیا پیچیدہ راستہ کھول دے گی
