Untitled 2026 02 19T211415.145

بیوی کی بھتیجی سے زیادتی اور جھوٹا نکاح کرنے والے حٰیاتیاتی والد کو 10 لاکھ روپے جرمانہ

اسلام آباد:،چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنی بیوی کی سگی بھتیجی سے زیادتی کر کے جھوٹے نکاح کا دعویٰ کرنے والے محمد شہزاد کی اپیل خارج کر تے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا گیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ پٹیشنر نے اپنی بیوی کی سگی بھتیجی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے شرعی نکاح کا رنگ دینے کی کوشش کی،پٹیشنر پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کی قانونی بیوی متاثرہ لڑکی کی سگی پھوپھی ہے۔
936056 77437929
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پھوپھی کی موجودگی میں اس کی سگی بھتیجی سے نکاح قانونی طور پر ممنوعہ حد میں آتا ہے اور یہ جائز نہیں ہو سکتا، پٹیشنر نے قانونی رکاوٹ سے بچنے کے لیے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کا من گھڑت دعویٰ کیا۔

فیصلے میں‌کہا گیا ہے کہ پٹیشنر نے اپنے انسانیت سوز فعل کو چھپانے کے لیے جھوٹی کہانی گھڑی جس کا کوئی قانونی ثبوت نہیں ہے.

سپریم کورٹ نے پٹیشنر کو متاثرہ خاتون سے پیدا ہونے والے بچے کا حیاتیاتی والد بھی قرار دے دیا۔

نکاح ثابت نہیں ہونے کے باوجود حیاتیاتی والد اپنے بچے کو نان و نفقہ دینے کا قانونی اور اخلاقی پابند ہے،معصوم بچے کو والدین کے غیر قانونی تعلق یا تنازعات کی وجہ سے اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

پٹیشنر نے عدالتی عمل کو خاتون کو ہراساں کرنے اور اخلاقی طور پر دبانے کے لیے بطور آلہ استعمال کیا،آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر انسان کے وقار کی حرمت ناقابلِ تسخیر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں