ملتان:جعلی وکلاء کے لئے از خود پیشہ چھوڑنے اور جعلی دستاویزات سے دستبرداری کے لئے ایک ماہ کی ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر دیا گیا۔
اس سلسلے میں پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بار کونسل، مناسب مشاورت اور اپنے معزز اراکین کی منظوری سے، قانونی برادری کے مفاد میں اور پیشۂ وکالت کی سالمیت و وقار کو برقرار رکھنے کے لیے، اُن افراد کو تیس (30) دن کی ایک مرتبہ کی عام معافی (ایمنسٹی) فراہم کرتی ہے جنہوں نے جعلی یا بوگس قانون کی ڈگریوں یا دیگر دستاویزات کی بنیاد پر بطور وکیل اندراج حاصل کیا ہے۔
اس محدود مدت کے دوران، ایسے افراد کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے جعلی تعلیمی دستاویزات، اصل لائسنسز اور انرولمنٹ سرٹیفکیٹس، جو دھوکہ دہی سے حاصل کیے گئے، واپس جمع کروا دیں تاکہ انہیں منسوخ کیا جا سکے، ساتھ ہی ایک حلف نامہ بھی جمع کروائیں کہ وہ آئندہ کسی بھی صورت میں خود کو وکیل ظاہر نہیں کریں گے۔
ان شرائط کی تعمیل کی صورت میں، ان کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی، بشمول ایف آئی آر کے اندراج، شروع نہیں کی جائے گی۔
تاہم، یہ بات واضح طور پر بیان کی جاتی ہے کہ مذکورہ ایمنسٹی مدت کے اختتام پر پنجاب بار کونسل "آپریشن کلین اپ” شروع کرے گی اور مکمل عدم برداشت (زیرو ٹالرنس) کی پالیسی نافذ کرے گی۔
ایسی صورت میں تمام خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں ایف آئی آر کا اندراج اور متعلقہ قوانین کے تحت فوجداری مقدمات کا آغاز شامل ہو گا مگر ان تک محدود نہیں ہو گا.ان معاملات کو ہر سطح پر سختی سے اور بلا امتیاز آگے بڑھایا جائے گا۔ یہ نوٹس/اطلاع حتمی اور لازم سمجھا جائے۔
مذکورہ ایمنسٹی مدت 13 اپریل 2026ء سے شروع ہو کر 13 مئی 2026ء تک جاری رہے گی، اور اس کے بعد کسی قسم کی مزید رعایت یا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔

