422616 8323887 updates

پاکستان میں گاڑیوں کی درآمد سے متعلق طریقہ کار میں ترامیم کی منظوری

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کر لیئے گئے ، گاڑیوں کی درآمد سے متعلق طریقہ کار میں ترامیم کی منظوری دیدی گئی.

اب گاڑیوں کی درآمد کیلئے مدت دو سال سے بڑھاکرتین سال کردی گئی، درآمدی گاڑی ایک سال تک ٹرانسفرنہیں ہوسکےگی۔
muhammad aurangzaib 1
تفصیلات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاورسیکٹر کےمالی استحکام کیلئے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کا جائزہ لیا گیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فالو اپ میکانزم بنانے کی ہدایت کردی، ای سی سی نےگاڑیوں کی درآمد سے متعلق طریقہ کار میں ترامیم کی منظوری دیدی ہے.

گاڑیوں کی درآمد کیلئےمدت 2 سےبڑھاکر3سال مقرر،ایک سال تک ٹرانسفر نہیں ہوگی،درآمدی گاڑیوں پر کمرشل سیفٹی و انوائرمنٹ اسٹینڈرڈز لاگو ہوں گے۔ گاڑیوں کی درآمد میں صرف ٹرانسفرآف ریزیڈنس اور گفٹ سکیمیں برقرار رہیں گی۔

اجلاس میں گاڑیوں کی درآمد سےمتعلق پرسنل بیگیج سکیم ختم کرنے کی منظوری بھی دیدی گئی ہے جبکہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کیلئے 1.28 ارب روپے کی گرانٹ منظور کر لی گئی ۔

اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن اور ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کیلئے ترقیاتی فنڈز کے اجرا کی منظوری بھی دیدی گئی ۔

اجلاس میں ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن کو مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ای سی سی نے کہا کہ نصف اضافہ فوری جبکہ باقی ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط ہو گا۔ ای سی سی نے پیٹرولیم مصنوعات پر او ایم سیز اور مارجن میں 5 سے 10 فیصد اضافہ منظور کر لیا۔ مارجن میں نصف اضافہ فوری، نصف ڈیجیٹائزیشن سے مشروط ہو گا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان 2025-26 کا جائزہ لینے کے بعد مالی معاونت کم کرنے کا درمیانی مدت کا پلان تیار کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

اجلاس میں ڈسکوز کی کارکردگی کے اہداف پر عملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ مکینزم قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کلوروفارم کی درآمد پر پابندی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔رائیکلونیتھین صرف فارما کمپنیاں ڈریپ این او سی کے ساتھ درآمد کر سکیں گی۔

پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے لئے 1.28 ارب منظورکی تکنیکی گرانٹ ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کیلئے 5 ارب روپے کے اضافی فنڈز منظور کر لیے گئے۔

اعلامیے کے مطابق پاسکو کے اثاثوں و واجبات کے خاتمے کیلئے خصوصی کمپنی قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی جو کمپنی اپنے مقاصد کی تکمیل پر تحلیل کر دی جائے گی۔

اس کے علاوہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کیلئے پنشن و میڈیکل اخراجات کی مد میں فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں