424506 8021469 updates

زراعت بحران کا شکار، مطالبات تسلیم نہیں‌ہونے پر بھرپور احتجاج کا اعلان

ملتان: پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ زراعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور کاشتکار کو اپنی فصل کی پیداواری لاگت بھی نہیں مل رہی جس کے باعث کسان احتجاج پر مجبور ہو رہا ہے۔

ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہم احتجاج شوق سے نہیں بلکہ مجبوری میں کرتے ہیں اور حکومت کے کہنے پر 5 جنوری کا احتجاج 26 جنوری تک مؤخر کیا۔
Untitled 2026 01 04T064600.143
ان کا کہنا تھاکہ زراعت میں فوری ایمرجنسی نافذ کی جائے، آلو اور کینو کے کاشتکار کو پیداواری لاگت بھی نہیں مل رہی، 120 کلو آلو کی بوری 8000 کے بجائے 1800 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کاشتکار سے آلو خریدے اور ایکسپورٹ کرے، تمام فصلوں کی امدادی قیمت کاشت سے ایک سال پہلے مقرر کی جائے، گندم کا ریٹ 4000 روپے رکھا جائے اور زرعی صارفین کو پندرہ روپے یونٹ کے حساب سے بجلی دی جائے۔

خالد محمود کھوکھر نے مزید کہا فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لیے آزاد پرائس کمیشن تشکیل دیا جائے ہم حکومت سے مذاکرات کے لیے حاضر ہو رہے ہیں حکومت کو اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کریں گے.حکومت سے کہتا ہوں کہ کاشتکار کو بچائے زراعت کو بچائیں، فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لیے آزاد پرائس کمیشن تشکیل دیا جائے، آبیانہ 300 سے پانچ سو فیصد تک بڑھایا گیا ہے گندم کا ریٹ 4 ہزار روپے مقرر کیا جائے نقصان کی صورت میں فصلوں کی انشورنس کا نظام متعارف کرایا جائے ہماری پیداواری لاگت میں کمی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں.

خالد محمود کھوکھر نے نیٹ میٹرنگ کی بندش کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ زرعی ریسرچ پر کم از کم دو فیصد بجٹ مختص کیا جائے، اگر جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 26 جنوری کو پنجاب اسمبلی کے باہر دما دم مست قلندر ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں