WhatsApp Image 2026 06 19 at 22.40.42

پنجاب: 1420 پبلک ٹوائلٹس، 127 خراب، معذور، ٹرانسجینڈرز کے لئے ناکافی کوٹہ، رپورٹ

لاہور:ہائیکورٹ نے پبلک ٹوائلٹس کی ناقص صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا.

جسٹس راحیل کامران شیخ نے صاف ستھرے ٹوائلٹس کو بنیادی آئینی حق قرار دیتے ہوئے صوبائی حکام سے فوری اقدامات طلب کر لیے ہیں ۔
Lahore high court1
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کے سربراہ اظہر صدیق کی درخواست پر پبلک ٹوائلٹس کی فراہمی سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیاکہ کہ صاف ستھرے پبلک ٹوائلٹس ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہیں۔عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ خراب اور غیر فعال ٹوائلٹس کو فوری طور پر فعال کیا جائے اور پانی، نکاسی آب اور صفائی سے متعلق جامع رپورٹ پیش کی جائے۔

فیصلے میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی گئی کہ صوبے بھر میں شہری، دیہی، ضلع اور تحصیل سطح پر پبلک ٹوائلٹس کی مکمل تفصیلات عدالت میں جمع کروائی جائیں، اور یہ بھی بتایا جائے کہ آبادی کے تناسب سے یہ سہولیات کافی ہیں یا نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوتاہی ناقابل قبول ہے، اور ایسے علاقے جہاں یہ سہولیات موجود نہیں، انہیں فوری ترجیح دی جائے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ صحت مند ماحول ہر شہری کا حق ہے، اور خواتین، بچوں، بزرگوں، ٹرانسجینڈر اور معذور افراد کے لیے علیحدہ اور مناسب سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب بھر میں موجود 1420 پبلک ٹوائلٹس ناکافی ہیں جبکہ 127 غیر فعال ٹوائلٹس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں، عدالت نے معذور افراد کے لیے صرف 10 اور ٹرانسجینڈر افراد کے لیے محض 5 ٹوائلٹس مختص ہونا بھی انتہائی ناکافی قرار دیا.

عدالت نے اضافی 702 پبلک ٹوائلٹس کی مجوزہ تعمیر سے متعلق رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس منصوبے پر 928 ملین روپے سے زائد لاگت کا تخمینہ ہے، تاہم مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔عدالت نے واضح کیا کہ پبلک ٹوائلٹس کی فراہمی کا نظام شفاف، مساوی اور مؤثر ہونا چاہیے، جبکہ موجودہ صورتحال فوری اقدامات کی متقاضی ہے۔

عدالت نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ 16 ستمبر کی سماعت سے ایک ہفتہ قبل تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں