aurangzaib 1

غیر ملکی اثاثوں، فضائی ٹکٹ، 50 کروڑ تک آمدن پر ٹیکس ختم، فائلر، تنخواہ دار کو بھی ریلیف

اسلام آباد:حکومت نے فنانس بل میں غیرملکی اثاثوں پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT) ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
budget 2026 27
بجٹ دستاویزات کے مطابق غیرملکی اثاثوں پر عائد یہ ٹیکس اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکا اور بیرونِ ملک موجود اثاثوں کو ظاہر کرنے کی حوصلہ شکنی کا سبب بن رہا تھا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ جو غیرملکی اثاثے ظاہر کیے جاتے ہیں وہ پہلے ہی دستاویزی ریکارڈ کا حصہ ہوتے ہیں اور ان پر ٹیکس بھی ادا کیا جاتا ہے، اس لیے کیپٹل ویلیو ٹیکس کا برقرار رہنا اثاثوں کی رضاکارانہ ڈیکلریشن میں رکاوٹ بن رہا تھا۔

حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
Untitled 2026 01 27T205905.687 1
بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مذکورہ آمدنی کی چھ سلیبز پر ایک فیصد سے ساڑھے سات فیصد تک سپر ٹیکس عائد تھا، جسے اب ختم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح بھی 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد ساز کمپنیوں پر عائد موجودہ سرچارج بدستور برقرار رہے گا۔

وفاقی بجٹ 2026-27 کے تحت بیرون ملک بزنس کلاس فضائی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
plane
تجویز کے مطابق امریکہ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ایف ای ڈی 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے کم کر کے 50 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ڈیوٹی ایک لاکھ 5 ہزار روپے سے کم کر کے 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح یورپ جانے والے مسافروں کے لیے ایف ای ڈی 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے کم کر کے 40 ہزار روپے جبکہ مشرقِ بعید اور آسٹریلیا کے لیے بھی یہی شرح 2 لاکھ 10 ہزار سے کم کر کے 40 ہزار روپے کرنے کی تجویز شامل ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد فضائی سفر کے شعبے کو سہارا دینا، ٹکٹوں کی طلب میں اضافہ کرنا اور پاکستان سے بین الاقوامی سفر کو فروغ دینا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیکس اصلاحات سے ایئرلائنز اور ٹریول انڈسٹری کو ریلیف ملے گا ۔

فنانس بل کے مطابق تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کر دی گئی ہے جبکہ مختلف آمدنی کے درجوں کیلئے نئی ٹیکس شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔

سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے ٹیکس کی شرح ایک فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ٹیکس 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے حصے پر لاگو ہوگا۔

12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 11 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 6 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 20 فیصد ٹیکس کی شرح مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس سلیب میں ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی شامل ہوگا۔

32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہوگا جبکہ 3 لاکھ 16 ہزار روپے فکس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 29 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 32 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی دینا ہوگا۔

70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 35 فیصد ٹیکس کی شرح تجویز کی گئی ہے۔ اس سلیب میں 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
956895 89720539
بجٹ 27-2006 میں جائیداد منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز پیش کی گئی ۔

فائلر کیلئے جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے جب کہ غیر ملکی اثاثہ رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں