ویب نیوز: سال 2025ء میں غیر قانونی نقل مکانی کرتے ہوئے لگ بھگ 8 ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے، خاص طور پر یورپ جانے والے سمندری راستے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے۔
یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے نقل مکانی کی جانب سے جاری نئی رپورٹ میں بتائی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیشتر افراد ‘پراسرار جہازوں کے غرق’ ہونے کے باعث گمشدہ ہوئے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر 7904 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔
اس سے قبل 2024 میں 9197 افراد نقل مکانی کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہوئے تھے تو 2025 میں یہ تعداد کم تھی،مگر گزشتہ سال تعداد میں کمی کی وجہ 1500 ایسے مشتبہ کیسز تھے جن کی تصدیق امداد کی کٹوتی کے باعث نہیں ہوسکی۔
سال 2014ء سے اس طرح نقل مکانی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 82 ہزار سے زائد ہوگئی ہے جبکہ 3 لاکھ 40 ہزار ورثا براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار ماریہ مویتا نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار مجموعی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ ہم ان سانحات کی روک تھام میں ناکام رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپی ممالک میں لوگوں کی آمد کی تعداد میں کمی آئی ہے مگر بنگلادیشی نژاد افراد سب سے زیادہ وہاں جانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی آئی۔
متعدد کیسز ایسے ہیں جب کشتیاں ہی سمندر میں گم ہوگئیں اور انہیں کبھی دریافت نہیں کیا جاسکا، جبکہ مغربی افریقا سے شمال کی جانب جانے والے سمندری راستے میں 1200 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ایشیا میں ریکارڈ ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار ایمی پوپ نے بتایا کہ لوگوں کی جانب سے خطرناک سفر کیے جا رہے ہیں اور ان کے خاندان کسی اطلاع کے منتظر ہیں جو ممکنہ طور پر ان تک کبھی نہیں پہنچ سکے گی۔
