لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں پہلی مرتبہ کالج ایجوکیشن کو ایک ہی معیار پر لانے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے کالج طلبہ کے لیے الیکٹروبس فیسلیٹی اور ہونہار سکالر شپ کے لیے تمام اہل طلبہ کو وظیفہ دینے کا حکم بھی دیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں سکول اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پراجیکٹس پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گوگل کے تعاون سے پنجاب کے ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو مفت سرٹیفکیشن کورسز کرائے جائیں گے، جن کی فیس 400 سے 1000 ڈالر تک ہوگی، ان کورسز میں سائبر سکیورٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، بزنس انٹیلی جنس سمیت دیگر جدید شعبے شامل ہوں گے، جن کا دورانیہ تین سے چھ ماہ ہوگا۔
اس کے علاوہ پہلی مرتبہ کالجز میں پرنسپلز، اساتذہ اور اداروں کیلئے کارکردگی کے پیمانے (کے پی آئیز) مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی کارکردگی بھی انہی پیمانوں کے تحت جانچی جائے گی۔
اجلاس میں پنجاب کے تمام کامرس کالجز کا یونیورسٹیوں سے الحاق کا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 29 اضلاع کے36 کامرس کالجز کو 19 سرکاری یونیورسٹیوں سے منسلک اور ہر کامرس کالج کا ضلع میں موجود سرکاری یونیورسٹی سے الحاق کیا جائے گا،جہاں بزنس، اکاؤنٹنگ، فنانس، بینکنگ، آئی ٹی اور ای کامرس سمیت 14 مختلف بی ایس پروگرامز پڑھائے جائیں گے۔
اجلاس میں پنجاب کے 166سرکاری کالجز میں نئی اور جدید ترین آئی ٹی لیب بنانے کی منظوری بھی دی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اقلیتی طلبہ کو مساوی بنیادوں پر اوپن میرٹ پر لیپ ٹاپ دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں شرکا کو بتایا گیا کہ دوسرے مرحلے میں طلبہ کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ بصارت سے محروم اور دیگر اسپیشل طلبہ کے لیے سکالر شپ رکھی گئی ہیں۔
پنجاب میں پیکٹا کے تحت گریڈ 8 اسیسمنٹ امتحانات میں 9 لاکھ 94 ہزار طلبہ نے شرکت کی۔ طالبات کی کامیابی کا تناسب 92 فیصد اور طلبا کی کامیابی کا تناسب 84 فیصد رہا۔
وزیراعلیٰ نے طالبات کو پہلی تین پوزیشنیں ملنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
