431569 7339631 updates

153 سالہ کرسچن میرج ایکٹ میں تبدیلی، دلہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازم قرار

لاہور:کرسچن میرج ایکٹ میں 153 سال بعد بنیادی تبدیلیوں کےلیے بل تیار کرلیا گیا، بل چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور فیلبوس کرسٹوفر کی جانب سے جمع کروایا گیا۔

WhatsApp Image 2026 04 09 at 07.37.43
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور فیلبوس کرسٹوفر

بل میں شادی کے لیے دلہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازم قرار دیا گیا ہے، جبکہ موجودہ قانون میں کسی ایک فریق کا مسیحی ہوناکافی قراردیا گیا تھا۔

بل میں شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز ہے، اس سے قبل قانون میں لڑکے کی عمر 16 اور لڑکی کی 13 سال مقرر تھی۔

بل کے مطابق مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن یونین کونسل اور نادرا کے ریکارڈ میں لازمی شامل کرنے اور رجسٹرڈ گرجا گھروں کو مسیحی طریقہ کار کے مطابق نکاح پڑھانے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ موجودہ بل میں نکاح کی تقریب کے وقت اور دن پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے کی تجویز کی گئی ہے کیونکہ موجودہ قانون کے تحت شام 6 بجے کے بعد نکاح کی اجازت نہیں تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں