اسلام آباد: پاکستان میں شہریوںکو حکومتی سطحپر پبلک پرائیویٹپارٹنر شپ کے تحت آسان اقساط پر اسمارٹ فونز منصوبے کے سلسلے میں وزارت آئی ٹی ، پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز میں مشاورت مکمل ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز میں قسطوں پر سمارٹ فونز کی فراہمی کے لیے فریم ورک پر اتفاق ہوگیا۔
جس کے لئے وزارت آئی ٹی نے پالیسی ڈائریکٹو بھی تیار کرلیا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں "اسمارٹ فون فار آل” منصوبے کا اعلان نومبر 2022ء میں کیا گیا تھا۔
اس ضمن میںآپریٹرز نے مالیاتی رسک اور قانونی پیچیدگیوں کے حل کا مطالبہ کیا تھا۔ اس بارےفریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نادہندہ صارفین کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ موبائل اور ٹیلی کام سروسز بلاک ہوں گی، جبکہ ڈیفالٹ پر پی ٹی اے موبائل فون بلاک کرے گا۔
ذرائع کے مطابق نادہندگان کی تمام مالیاتی سروسز بلاک کرنے کی تجویز حکومت نے مسترد کر دی۔قبل ازیںنادہندگان کے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بند کرنے کی تجویز آپریٹرز نے پیش کی تھی۔
جس کے جواب میں حکومت نے کہا کہ مالیاتی سروسز کی بندش سٹیٹ بینک کا دائرہ اختیار ہے۔
نمائندہ چینی ٹیلی کام آپریٹر نے کہا کہ کچھ تجاویز منظور نہیں ہونے کے باوجود آپریٹرز رکاوٹ نہیں بنیں گے۔سمارٹ فون اقساط منصوبے کا پالیسی ڈائریکٹو تیار ہے۔ جس کے تحت نادہندہ صارف کسی دوسرے آپریٹر کی سروس حاصل نہیں کر سکے گا۔
پالیسی ڈائریکٹو کب تک جاری ہوگا یہ وزارت آئی ٹی پر منحصر ہے ۔ البتہ ڈائریکٹو جاری ہونے کے بعد تمام آپریٹرز اس پر عملدرآمد کریں گے ۔ نمائندہ چینی ٹیلی کام آپریٹر نے کہا کہ ہماری بعض موبائل فون مینوفیکچرنگ کمپنیوں سے بات چیت شروع ہے۔
