416878 5924350 updates

زیادتی کے متاثرین دربدر، صرف 0.5 فیصد سزائیں: پاکستان کا نظام انصاف کٹہرے میں

اسلام آباد:پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے خلاف زیادتی کے بڑھتے واقعات کے باوجود انصاف کی فراہمی کا نظام شدید بحران کا شکار ہے، جہاں قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث متاثرین انصاف کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔

ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ نے ملک کے فوجداری نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کب تک متاثرین کو انصاف کے بجائے مایوسی ملتی رہے گی؟
rule of law
رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان پینل کوڈ 1860 میں 2021 کی ترامیم کے ذریعے زیادتی کی تعریف کو وسیع اور سزاؤں کو سخت کیا گیا، جبکہ اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کے تحت متاثرین کے تحفظ، تیز رفتار ٹرائل اور خصوصی عدالتوں کے قیام جیسے اہم اقدامات بھی متعارف کرائے گئے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ متعلقہ ادارے ان قوانین کو سمجھنے اور نافذ کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں انصاف کا پورا عمل متاثر ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادتی کے مقدمات میں سزا کی شرح محض 0.5 فیصد ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مجرموں کے لیے عملی طور پر کوئی خوف باقی نہیں رہا۔ دوسری جانب ایک مقدمے کے فیصلے میں دو سے تین سال تک کا عرصہ لگنا معمول بن چکا ہے، جس کے دوران متاثرین اور ان کے اہل خانہ ذہنی اذیت اور سماجی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پولیس کی تفتیش محدود اور غیر مؤثر ہے، جو زیادہ تر صرف میڈیکل شواہد تک محدود رہتی ہے، جبکہ جدید فرانزک شواہد کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ملک میں فرانزک سہولیات کی کمی اور موجودہ لیبارٹریز پر بوجھ کے باعث رپورٹوں میں مہینوں کی تاخیر معمول ہے۔ مزید برآں، خواتین میڈیکو لیگل افسران کی کمی اور تربیت کا فقدان بھی انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ضابطہ فوجداری 1898 اور بعد ازاں ترامیم کے ذریعے متاثرہ خاتون کے بیان کو محفوظ ماحول میں ریکارڈ کرنے، ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی اور کردار سے متعلق سوالات پر پابندی جیسے اقدامات کیے گئے، لیکن عملی طور پر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ نچلی عدالتیں اب بھی پرانے تصورات کے تحت متاثرین سے اضافی شواہد اور جسمانی مزاحمت کے ثبوت طلب کرتی ہیں، جو انصاف کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

رپورٹ میں خاص طور پر ازدواجی زیادتی کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جہاں قانون میں گنجائش کے باوجود عدالتیں اکثر شادی کو استثنا قرار دے دیتی ہیں۔ نتیجتاً ایسے کیسز یا تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا انہیں دفعہ 377 کے تحت کم سزاؤں والے مقدمات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جو متاثرین کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہے۔
Untitled 2025 11 14T070438.111
اسی طرح کم عمری کی شادی کے قوانین میں تضاد بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے، جہاں ایک طرف کم از کم عمر مقرر کی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب بلوغت کو رضامندی کی بنیاد بنا کر کم عمر شادیوں کو قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انصاف تک رسائی صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ اکثر متاثرین کو اپنے ہی خاندان یا معاشرے کی طرف سے خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جبکہ گواہوں کے تحفظ کے مؤثر نظام کے فقدان کے باعث عدالت سے باہر سمجھوتے عام ہیں، حالانکہ زیادتی ایک ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025 میں پاکستان کا 148 ممالک میں آخری نمبر پر آنا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی میں نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اقلیتی برادریوں، خصوصاً ہندو اور مسیحی خواتین، کو اغواء، جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی جیسے اضافی خطرات کا سامنا ہے، جبکہ معذور خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے امکانات کئی گنا زیادہ ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو قانون اور انصاف کے درمیان خلیج مزید وسیع ہو جائے گی۔ ان کے مطابق صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد، ادارہ جاتی اصلاحات، تفتیشی نظام کی بہتری اور متاثرین کے تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، بصورت دیگر انصاف کا یہ نظام عوام کا اعتماد مکمل طور پر کھو بیٹھے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں