ملتان:صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کو ایک درخواست جمع کرائی گئی ہے،جس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے بائیو میٹرک تصدیق کے احکامات کے خلاف جنرل باڈی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزار وکلاء نے ان احکامات کو نظام انصاف کا مذاق اڑانے اور وکلاء و سائلین کو عدالتوں میں آنے سے روکنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گزشتہ اعلیٰتعیناتی سے فراہمی انصاف اور وکلاء کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ GRC کے احکامات، عدالتوں کے اوقات کار میں کمی، اور اب بائیو میٹرک تصدیق جیسے اقدامات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
درخواست میں خاص طور پر جیل سے آنے والے وکالت ناموں کی بائیو میٹرک تصدیق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا انسانی عقل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وکلاء کے مطابق اگر جیل میں قید شخص کے وکالت نامے کی تصدیق بھی بائیو میٹرک کے ذریعے ہی ہونی ہے تو بہتر ہے کہ پورا نظام انصاف ہی ختم کر دیا جائے ۔مزید برآں، بائیو میٹرک تصدیق کے نام پر وصول کی جانے والی رقم اور اس میں بار کونسل و بار ایسوسی ایشن کا حصہ ناجائز ٹیکس قرار دیا گیا ہے، جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
وکلاء کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ ان تمام حالات پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے جنرل باڈی کا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے۔ درخواست پر سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ، ملک محبوب علی ایڈووکیٹ، رشید عارف گوندل ایڈووکیٹ، سید اقبال مہدی زیدی ایڈووکیٹ، اور سید ذاکر نقوی ایڈووکیٹ سمیت 500 سے زائد وکلاء کے دستخط موجود ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی وکلاء کی جانب سے اس معاملہ پر لائحہ عمل طے کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان میں اجلاس بلانے کی درخواست دی تھی، جبکہ لاہور، میلسی، جہلم، بورے والہ بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے بھی بائیو میٹرک کی مخالفت کرتے ہوئے اس فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے.


