لاہور:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے ضلع عمرکوٹ میں طویل عرصے سے آباد خاندانوں کی جبری بے دخلی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کمیشن کے مطابق پولیس کا مبینہ طرزِ عمل، جس میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کے خلاف تشدد کی اطلاعات شامل ہیں، نظام میں موجود گہرے ساختی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سیاسی اثر و رسوخ پر مبنی کمانڈ اسٹرکچر، کمزور شہری نگرانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر عدم احتساب جیسے مسائل کو ظاہر کرتی ہے۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ محض معطلی اور محکمانہ انکوائری کافی نہیں۔ اس کے بجائے حکومتِ سندھ کو جامع پولیس اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں، جن میں ایسے واقعات کے لیے آزاد شکایتی اتھارٹیز کا قیام، بے دخلی کے عمل کے لیے شفاف آپریشنل طریقہ کار، لازمی انسانی حقوق کی تربیت، اور پولیس کو بااثر طبقوں کے دباؤ سے محفوظ بنانے کے اقدامات شامل ہوں۔
ایچ آر سی پی نے زور دیا کہ پولیس کا بنیادی فرض کمزور اور محروم شہریوں کا تحفظ ہے، نہ کہ طاقتور مفادات کے آلۂ کار کے طور پر کام کرنا ہے۔
