ملتان: صوبہ پنجاب کی ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز لاہور، ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی کے سالانہ انتخابات آج 28 فروری 2026ء کو منعقد ہوں گے، جس کے لئے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں.
صوبہ بھر کے دور دراز علاقوں سے ممبران وکلاء لاہور، ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی میں ووٹ ڈالنے کے لئے آئیں گے، انتخابی جوش و خروش عروج پر ہے اور روایتی گہما گہمی نظر آئے گی، جبکہ امیدواروں کی جانب سے پولنگ کیمپ بھی قائم کر دئیے گئے ہیں.
ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے انتخابات میں صدارت پر 2امیدواروں سید اطہر حسن شاہ بخاری اور چوہدری عمر حیات کے درمیان مقابلہ ہے.
نائب صدر پر 6امیدواروں قیصر امیر خان ،نواب محمد اقبال خان بلوچ ،چوہدری امداد حسین جھورڑ، زاہد کبیر کھاکھی، میاں محمود احمد انصاری ، محمد ابرار خان محمد زئی کے درمیان مقابلہ ہو گا.اسی طرح جنرل سیکرٹری پر فیاض حسین لغاری اور چوہدری ظفر اللہ وڑائچ کے مابین ون ٹو ون مقابلہ ہو گا جبکہ فنانس سیکرٹری کے لئے 3امیدواروں سید مرتضی مہدی بخاری، سید محسن عباس کاظمی اور چوہدری نعمان احمد مدمقابل ہوں گے، لائبریری سیکرٹری کے لئے بھی خواتین امیدواروں نادرہ نور اور سمیرا صدیق ملک کے مابین ون ٹو ون مقابلہ ہو گا.
ممبران ایگزیکٹیو کی 7سیٹوں پر آمنہ خان،سید حسنین شاہ گیلانی،فرقان احمد خان،شیخ جنید طارق،مہر غلام شبیر سیال،سید مبارک علی شاہ اور محمد الیاس بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔
چئیر مین الیکشن بورڈ سید ریاض الحسن گیلانی نے بتایا کہ ہائیکورٹ بار ملتان کے الیکشن میں پہلی مرتبہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ انتخابی عمل کو شفاف، منظم اور سہل بنایا جا سکے،اس سلسلے میں نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسلام اباد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جس نے بار کے لئے بلا معاوضہ خصوصی سافٹ ویئر تیار کیا ہے،انہوں نے کہا کہ جدید سسٹم کے ذریعے ووٹرز کو پولنگ سے ایک روز قبل بذریعہ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ ان کے ووٹ نمبر اور پولنگ بوتھ نمبر کی معلومات فراہم کر دی گئی ہیں، جبکہ ووٹرز ایک مخصوص نمبر پر اپنا نام بھیج کر فوری طور پر اپنی تفصیلات بھی حاصل کر سکیں گے.اس اقدام کا مقصد ووٹرز کو سہولت فراہم کرنا اور پولنگ کے دن کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچانا ہے.
پولنگ سکیم بارے چیئرمین الیکشن بورڈ کے مطابق اس سال انتخابات میں مجموعی طور پر 13 ہزار 83 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن کے لئے 30 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں، پولنگ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی، جبکہ دوپہر ایک بجے سے 2 بجے تک نمازِ ظہر کے لیے وقفہ رکھا گیا ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ ووٹرز کے لیے اصل شناختی کارڈ کے ساتھ پنجاب بار کونسل یا پاکستان بار کونسل کا کارڈ دکھانا لازمی ہوگا، جس کے بغیر ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی، ہر پولنگ بوتھ کے لیے علیحدہ رنگ کا بیلٹ پیپر مختص کیا گیا ہے اور اگر کسی بوتھ سے مختلف رنگ کا بیلٹ پیپر نکل آیا تو اسے منسوخ تصور کیا جائے گا،
ہائیکورٹ بار کے الیکشن دن کے حوالے سے چئیر مین الیکشن بورڈ ایڈووکیٹ سید ریاض الحسن گیلانی نے بتایا کہ الیکشن ڈے پر ہائیکورٹ کے ایریا میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کا فیصلہ ہوا ہے ،ہائی کورٹ چوک سے ایس پی چوک تک بار عمارت میں جو وکیل نہیں ہوگا، اس کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ، الیکشن کے روز صرف وکلاء اور متعلقہ سپورٹنگ سٹاف کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے ، بیریئرز پر پولیس تعینات ہو گی ، شناختی کارڈ اور تلاشی لازمی قرار دی گئی ہے ، سیکیورٹی چیکنگ پر وکلاء سے مکمل تعاون کی اپیل کرتے ہیں.
وکلاء کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ غیر متعلقہ افراد کو ساتھ نہیں لائیں،نان لائرز کے لیے شناختی کارڈ ساتھ رکھنا لازم ہوگا ،الیکشن شفاف اور پرامن بنانے کیلئے فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے. الیکشن نتائج کے بعد ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی ہو گی امیدوار کسی بھی حامی کی طرف سے ہوائی فائرنگ کرنے پر چئیر مین الیکشن بورڈ امیدوار کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کا مجاز ہو گا.

