لاہور:ہائیکورٹ نےپنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کےتحت ڈی آرسی کمیٹیوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے، تمام درخواستیں کارروائی کے لیے ٹریبونل کو بھجوا دیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے 500 سے زائد درخواستوں پر سماعت کی.
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویزنےنیا ترمیمی آرڈیننس عدالت میں پیش کیا اور بتایا آرڈیننس میں بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کے تحت ڈی آر سی کمیٹیوں کے پاس جوڈیشل پاورز نہیں ہوں گی اور شکایت بائیو میٹرک طریقے سے درج ہوگی۔
اس طرحایگزیکٹو سےاختیارات واپس لےکر ٹربیونل کو دیئےگئے ہیں،ریٹائرڈ کے بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونل میں تعینات کیے جائیں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ٹریبونل کے پاس جھوٹی شکایت درج کرانے والوں کو پانچ سال سزا دینے کا اختیار ہوگا،ٹربیونل 30 روز میں فیصلہ کرنےکا پابندہوگا،ٹریبونل کی کارروائی کےخلاف آئینی عدالت، ہائیکورٹ و سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاسکے گا.
امجد پرویز کاکہنا تھا کہ جن درخواست میں قانون کو چیلنج کیا گیا وہ اس ترمیم کے بعد غیر مؤثر ہوگئی ہیں.
چیف جسٹس نےریمارکس دیئےکہ قانون میں واضح تبدیلیاں آگئی ہیں،قانون کےغیرآئینی ہونے سے متعلق درخواستوں کو بعد میں دیکھیں گے ۔
عدالت نےتمام درخواستیں ٹریبونل کو بھجوادیں اورحکم جاری کیا کہ ٹربیونل تمام درخواستوں کو نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت سن کر فیصلہ کرے ۔
