اسلام آباد :قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال میں سب سے زیادہ حاضری دینے والے ارکان بارے رپورٹ سامنے آ گئی.
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (FAFEN) کی سالانہ حاضری تجزیاتی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران مجموعی طور پر 84 اجلاس منعقد ہوئے، جن میں صرف ایک رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) نے تمام اجلاسوں میں مکمل حاضری یقینی بنائی۔
رپورٹ کے مطابق دس ارکان نے غیر معمولی حاضری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 95 فیصد سے زائد اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان ارکان نے سال بھر میں 80 یا اس سے زائد نشستوں میں حاضری دی۔ ان میں پارلیمانی امور اور عوامی امور کے وفاقی وزراء بھی شامل ہیں، جنہوں نے بالترتیب 80 اور 82 اجلاسوں میں شرکت کی۔
ان دس باقاعدہ ترین ارکان میں چھ مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔ جماعتی وابستگی کے لحاظ سے سات ارکان کا تعلق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے، جبکہ ایک رکن پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز (PPPP)، ایک متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P)، اور ایک آزاد رکن جو پاکستان تحریک انصاف (PTI) سے منسلک ہیں، شامل ہیں۔
صوبائی نمائندگی کے اعتبار سے مذکورہ ممبران اسمبلی میںسے تین ارکان پنجاب سے منتخب ہوئے، دو اسلام آباد، دو سندھ، دو خیبرپختونخوا جبکہ ایک رکن بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
سب سے زیادہ حاضری دینے والے ان دس ارکان میں کرن حیدر (بلوچستان، مسلم لیگ ن) — 84نشستوں، سہیل سلطان (این اے-4 سوات-III، آزاد) ،انجم عقیل خان (این اے-46 اسلام آباد-I، مسلم لیگ ن)،رانا مبشر اقبال (این اے-124 لاہور-VIII، مسلم لیگ ن)،وفاقی وزیر برائے عوامی امور شائستہ خان (خیبرپختونخوا، مسلم لیگ ن) — 82نشستوں میںحاضر رہے.
طارق فضل چوہدری (این اے-47 اسلام آباد-II، مسلم لیگ ن)،وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور انور الحق چوہدری (این اے-75 نارووال-I، مسلم لیگ ن)،سید حفیظ الدین (این اے-245 کراچی ویسٹ-II، ایم کیو ایم)،فرح ناز اکبر پارلیمانی سیکریٹری برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت(پنجاب، مسلم لیگ ن) — 80 نشستوں میں حاضر رہے.
سیاسی امور کے ماہرین کے مطابق فافن کی یہ رپورٹ پارلیمانی شفافیت اور عوامی نمائندوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق حاضری کا تسلسل قانون سازی کے عمل اور عوامی مسائل کے مؤثر حل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چند ارکان نے پارلیمانی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھایا، تاہم مجموعی طور پر تمام ارکان کی حاضری میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹس عوام کو اپنے نمائندوں کی کارکردگی سے آگاہ کرنے اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

