supreme court 10 2

سپریم کورٹ؛تبدیلیِ مذہب یا زات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک آئین کے منافی

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کی عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر تے ہوئے اپنے تفصیلی فیصلے میں انسانی وقار، برابری اور امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق اہم آبزرویشنز بھی جاری کیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو تبدیلیِ مذہب کی بنیاد پر الگ ظاہر کرنا غیر قانونی ہے، انسانی وقار کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس ریکارڈ میں ذات پات کے سابقے یا لاحقے لگانا آئین کے منافی ہے۔
Untitled 15
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو برابری اور یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 26 کسی بھی قسم کے امتیاز کو روکتا ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہروں کو رہنے کے قابل بنانے والوں کو کم تر سمجھنا اخلاقی ناکامی ہے۔

عدالت نے تمام آئی جیز اور بالخصوص اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ ایف آئی آر میں ذات پات اور برادری کا ذکر نہ کیا جائے.

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ گرفتاری میمو، برآمدگی رپورٹ اور چالان میں بھی کسی کی ذات یا قبائلی شناخت درج نہیں کی جائے گی، پولیس ریکارڈ میں کسی کی حیثیت یا تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال ممنوع ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ذات کا ذکر صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب تفتیشی افسر کے پاس اس کی ٹھوس وجوہات موجود ہوں، عدالت نے نشاندہی کی کہ پولیس نے ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ کے نام کے ساتھ "نو مسلم شیخ” کا لفظ استعمال کیا تھا جو غیر مناسب تھا۔

مقدمے کے مطابق مجرم نے اکتوبر 2004 میں ایک شہری کو قتل کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ نے سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، جسے اب سپریم کورٹ نے کم کرکے 15 سال کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں