Untitled 2026 02 12T183104.193

پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خلاف نیا آرڈیننس نافذ، سخت سزاؤں‌ کااعلان

لاہور: پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خلاف نیا آرڈیننس نافذ کردیا گیا،گورنر پنجاب نے چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 کی منظوری دے دی۔

آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں اب 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر مکمل پابندی عائد ہوگی،نکاح کے وقت دولہا اور دلہن کی عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔Untitled 2026 02 12T183048.969

کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم ہوگی، کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائیگی،کم عمری کا نکاح پڑھانے والےکو ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے شخص کو 3 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوگا، پنجاب میں 18 سال سے کم عمر کی شادی پر سزا 7 سال قید مقرر کی گئی ہے۔

بچوں کو دوسرے صوبے لے جا کر شادی کروانے پر بھی 7 سال قید اور 10 لاکھ جرمانہ ہوگا،کم عمری کی شادی کی کوشش کرنے والے سرپرست کو 2 سال قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

جرم کو ناقابل ضمانت بنا دیا گیا، ٹرائل بھی اب سیشن کورٹ کرے گی۔
Untitled 2026 02 12T183055.332
کم عمر بچے یا بچی کو abuse کرنے والے کو ہر حال میں قید کی سزا 5 سال ہو گی اور لازمی جرمانہ 10 لاکھ ہو گا،سزا اور جرمانہ اس سے کم نہ ہو گا

چائلڈ میرج روکنے کیلئےانتظامیہ کو خصوصی اور وسیع اختیارات تفویض کئے گئے ہیں ،نکاح رجسٹرار اور والدین بھی قانون کی زد میں آئیں گے۔

حکومتِ پنجاب نے 1929 کے قدیم چائلڈ میرج ایکٹ میں ترمیم کر دی،آرڈیننس کی حتمی منظوری پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں لی جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں