راولپنڈی: پنجاب کونسل آف دی آرٹس کی راولپنڈی آرٹ گیلری میں "صنف نازک، عزم آہن” کے نام سے ایک منفرد نمائش کا افتتاح پاکستان میں نارتھ سائپرس، جمہوریہ ترکیہ کی سفیر کے کوپ نے کیا۔
پنجاب کونسل آف دی آرٹس راولپنڈی اور تصویر خانہ ویژول اینڈ پر فارمنگ آرٹس سٹوڈیو اسلام آباد کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس نمائش میں جڑواں شہروں سے تعلق رکھنے والی 11 خواتین مصوروں امبرین راشد خان، الا سے مواز ذوالقر نین، ہالہ مسعود، خدیجہ عمر، عصمت جبین، کنول نفیس، صالحہ فیصل، سلوت حجازی، شہلا معظم، سنینہ رحمت اور زینب مواز نے اپنے فن پارے شائقین فن کے لیے پیش کیے ۔
اس نمائش کا مرکزی خیال معروف مصور، مجسمہ ساز، مصنف اور ڈرامہ ڈائریکٹر احمد حبیب نے ڈرافٹ کیا جو تصویر خانہ کے بانی اور ڈائریکٹر بھی ہیں، جبکہ کیوریشن کی اہم ذمہ داریاں کنول نفیس اور خدیجہ عمر نے نبھائیں جن کے فن پارے بھی اس نمائش کا اہم حصہ ہیں۔
اس منفرد نمائش میں آئل کلر، ٹرکٹر، ایکریلک اور مکس میڈیم پر 50 فن پارے شامل ہیں،جن میں پاکستان بھر سے 10 قلعوں کو کینوس و کاغذ پر محفوظ کیا گیا ہے، جن میں قلعہ روہتاس، قلعہ روات، قلعہ پھروالہ، قلعہ رام کوٹ، قلعہ اٹک، قلعہ سنجانی، قلعہ بات، قلعہ است، قلعہ جمرود، قلعہ لاہور اور قلعہ دراوڑ شامل ہیں ۔
خواتین مصوروں کا کہنا تھا کہ وومن ایمپاورمنٹ کی جب بات ہوتی ہے تو زیادہ تر سیمینار منعقد کرائے جاتے ہیں یا پھر کسی سڑک پر احتجاج دیکھنے میں آتے ہیں، مگر ان کے نزدیک آج کی یہ نمائش دراصل حقیقت میں "وومن ایمپاورمنٹ” اور دوسرا "Pictorial Documentation” ایک سرزمین پاکستان کے مختلف حصوں میں صدیوں سالوں سے گرمی سردی اور دھوپ بارش سہتے یہ قلعے خاموش گواہوں کی طرح تغیر وقت کے آگے سینہ سپر ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں، سرسبز میدانوں اور خشک صحراؤں میں داستان گو بن کر کھڑی یہ عظیم الشان عمارتیں جو ہمارے شاندار ماضی کی پہچان ہیں، آج عمومی غفلت کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اس لیے اندیشہ ہے کہ ان کھردرے درودیوار پہ لکھے عظیم فاتحین کے حکم نامے، بھرے گھوڑوں کی ٹاپیں اور چمکتی تلواروں کی داستانیں بھی رومانی حال کے پس منظر میں گم ہو کر نہ رہ جائیں؛ یہ نمائش اس ماضی کو زندہ رکھنے کی بھی ایک کوشش ہے تا کہ آنے والی نسلوں کو بکھرے پتھر اور گرد آلود آثار کے بجائے یہ فن پارے زندہ استعاروں کے طور پر پیش کیے جاسکیں۔
خواتین مصوروں کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ فاتحین کے کارناموں سے آراستہ تاریخ کے اوراق میں عورت کو ہمیشہ "صنف نازک” کہہ کر اُس کے "عزم آہن” کو صرف نظر کر دیا گیا اس لیے اُس کی جدوجہد کو بھی کم کم ہی یاد رکھا جاتا رہا، مگر دنیا بھر کی سینہ بہ سینہ تواریخ میں، ان گنت خواتین کی مزاحمت اور ثابت قدمی کی داستانیں نیم تاریک طاقچوں میں رکھی ملتی ہیں ؟ اگر ڈھونڈا جائے۔
آج کی یہ نمائش بنیادی طور پر ایسی ہی گیارہ حوصلہ مند خواتین کی ثابت قدمی اور ہم آہنگی کی عملی دلیل ہے جس کا اظہار ان مصوروں نے محض پھول، پتے، پہاڑ ، جھرنے اور سبزہ زار جیسے روائتی موضوعات پر طبع آزمائی کے بجائے تاریخی قلعے بنا کر کیا ہے۔ انھوں نے اپنی اس مضبوط علامت نگاری سے ثابت کیا ہے کہ ہماری آج کی عورت کا موضوع بھی محض نزاکتیں نہیں بلکہ "دفاع اور استحکام” ہو سکتا ہے۔
نمائش کی منصوبہ ساز اور ڈائریکٹر راولپنڈی آرٹس کونسل خدیجہ عمر نےخواتین مصوروں کی اس کاوش پر داد دی، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی عوام نے بھی اس نمائش کو بھی سراہا، جو 12 فروری 2026ء کی شام تک جاری رہے گی۔

