Untitled 2026 01 19T203154.743

ملتان اور لاہور: 1857ء سے پہلے اخباری بیانیہ کی تاریخ میں‌ترقی کا فرق

سید خالد جاوید بخاری

پنجاب میں جدید مطبوعہ صحافت کے ابتدائی دور (تقریباً 1835ء تا 1857ء) میں لاہور اور ملتان کے اخباری بیانیے (News Narrative / Framing) کا تقابلی جائزہ لینے اور اسی تناظر میں 1857ء سے قبل ملتان کی اخباری تاریخ کو دستیاب، قابلِ تصدیق تاریخی شواہد کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ لاہور میں اخبارات کی نشوونما برطانوی نوآبادیاتی انتظامی مرکزیت، سرکاری سرپرستی، اور طباعتی صنعت کی دستیابی کے باعث نسبتاً تیز اور ادارہ جاتی نوعیت کی حامل تھی، جبکہ ملتان میں اخباری سرگرمی محدود ہونے کے باوجود معنوی طور پر اہم رہی، جو مقامی سماجی، تجارتی، مذہبی اور سیاسی حساسیتوں کے ساتھ نمو پذیر ہوئی۔اس امر پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ ملتان کی صحافت کو محض "حاشیائی” یا "غیر مرکزی” قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں، بلکہ اس کا بیانیہ لاہور سے مختلف مگر اپنے سیاق میں بامعنی اور اثر انگیز تھا۔

برصغیر میں اخبارات محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ وہ طاقت، علم، شناخت اور سیاسی وفاداری کے بیانیے تشکیل دینے کا ایک مؤثر وسیلہ بنے۔ پنجاب میں یہ عمل اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب 1849ء میں پنجاب براہِ راست برطانوی اقتدار میں آیا اور لاہور کو صوبائی دارالحکومت کی حیثیت حاصل ہوئی۔اس انتظامی تبدیلی نے صحافت کے مزاج، ترجیحات اور بیانیاتی ساخت کو گہرے طور پر متاثر کیا۔اس پس منظر میں تحقیق کریں‌تو کئی بنیادی سوالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ 1857ء سے قبل لاہور کے اخبارات نے پنجاب، ریاست اور عوام کو کس زاویے سے پیش کیا؟، ملتان میں ابتدائی اخبارات نے مقامی حقیقتوں کو کن بیانیاتی فریمز میں بیان کیا؟، اور 1857ء سے پہلے ملتان کی مطبوعہ صحافت کے مستند تاریخی شواہد کیا ہیں، اور وہ لاہور و ملتان کے اخباری فرق کو کس طرح واضح کرتے ہیں؟
Untitled 2026 01 19T204300.689
ان سوالات کے جواب جاننے کےلئے اختیار کئے گئے طریقۂ کارِ تحقیق (Methodology) کے مطالعہ تین سطحوں پر انجام دیا گیا ہے. جس میں‌پہلا تاریخی و دستاویزی جائزہ ہے. اس ضمن میں‌ پنجاب آرکائیوز میں محفوظ "Old Persian Newspapers” اور "Newspapers & Gazettes (Persian Records)” سے متعلق مواد، نیز مستند ثانوی تحقیقی لٹریچر کا جائزہ لیا گیا۔ بالخصوص 1840ء کی دہائی کے وہ ریکارڈ اہم ہیں جن میں لاہور کے ساتھ ملتان کا بھی بطور علاقہ ذکر ملتا ہے۔اداراتی و بیانیاتی تجزیہ کے ضمن میں لاہور کے نمایاں اخبار کوہِ نور اور ملتان سے منسوب اخبارات ریاضِ نور اور شُعاعُ الشمس کے بارے میں دستیاب حوالہ جاتی مواد کی روشنی میں خبر کے انتخاب، ترجیح اور بیانیاتی زاویے (Framing) کا تجزیہ کیا گیا۔بین المتونی شواہد (Intertextuality) کے لئے لاہور کے اخبار کوہِ نور میں "ملتان سے خبر” کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹس کو بطور تاریخی ثبوت استعمال کیا گیا، جو دونوں شہروں کے اخباری نظام کے باہمی ربط کو ظاہر کرتی ہیں۔تاہم 1857ء سے قبل ملتان کے اصل اخباری شماروں تک رسائی محدود ہے، اس لیے تحقیق صرف مستند اور قابلِ تصدیق حوالوں تک محدود رکھی گئی ہے۔

پنجاب میں مطبوعہ صحافت کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں‌تو انیسویں صدی کے اوائل میں پنجاب میں “اخبار” کی روایت زیادہ تر فارسی میں سرکاری یا درباری روداد کی صورت میں موجود تھی۔ Akhbar Darbar-i-Lahore (1835–1849) جیسی مثالیں جدید عوامی اخبار کے بجائے انتظامی و عدالتی رپورٹنگ کی نمائندہ تھیں۔1840ء کی دہائی اور "Old Persian Newspapers”،پنجاب آرکائیوز کے مطابق 1843–1844 کے دوران ایسے فارسی اخبارات کا وجود ملتا ہے جن میں لاہور کے ساتھ ملتان بھی بطور علاقہ شامل تھا۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملتان خبر کی ترسیل اور اخباری نیٹ ورک سے باہر نہیں تھا، اگرچہ وہاں باقاعدہ شہری روزنامہ موجود نہ ہو۔

لاہور کی اخباری تاریخ اور بیانیہ (1857ء سے پہلے) کے ضمن میں‌معلوم ہوتا ہے کہ 14 مئی 1850ء کو لاہور سے شائع ہونے والا ہفت روزہ کوہِ نور پنجاب کا ابتدائی نمایاں اردو اخبار سمجھا جاتا ہے، جس کے بارے میں عمومی طور پر یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر سرکاری سرپرستی سے وابستہ تھا۔لاہور کے اخباری بیانیے کی نمایاں خصوصیات میں‌انتظامی مرکزیت کے تحت خبروں میں سرکاری احکامات، اصلاحات اور ضابطہ کاری کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔صوبائی زاویہ کے تحت لاہور کا اخبار پورے پنجاب کو ایک انتظامی اکائی کے طور پر پیش کرتا ہے، جس میں ملتان، بہاولپور اور دیگر علاقوں کی خبریں شامل ہوتی ہیں۔اس طرح طباعتی برتری کے ضمن میں لاہور میں مطابع اور لیتھو پریس کی دستیابی نے اشاعت کی باقاعدگی اور مواد کے تنوع کو ممکن بنایا۔
Untitled 2026 01 19T204733.126
انگریزی صحافت اور شہری ایلیٹ کے تناظر میں دیکھیں‌تو معلوم ہوتا ہے کہ اسی دور میں "The Lahore Chronicle (1850) "جیسے انگریزی اخبارات بھی سامنے آئے، جو نوآبادیاتی علمی و عدالتی طبقے کی نمائندگی کرتے تھے۔

ملتان کی اخباری تاریخ (1857ء سے پہلے) کے دستیاب شواہد کے مطابق ملتان ایک قدیم مذہبی و تجارتی مرکز تھا، مگر انیسویں صدی کے وسط تک یہاں مطبوعہ صحافت کی رفتار لاہور کے مقابلے میں سست رہی۔ اس کے باوجود فارسی اخباری ریکارڈ میں ملتان کی شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شہر خبروں کے دائرے میں فعال تھا۔جامعہ پنجاب کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق منشی مہدی حسین خان نے 1853ء میں ملتان سے ہفتہ وار ریاضِ نور جاری کیا۔ اسی تحقیق میں شُعاعُ الشمس کو سیاسی و قومی رجحان رکھنے والا پرچہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ حوالہ اس لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے کہ:یہ 1857ء سے قبل ملتان کے ایک باقاعدہ مطبوعہ اخبار کی تصدیق کرتا ہے؛یہ ملتان کی صحافت کو محض مقامی خبرنامہ نہیں بلکہ فکری و سیاسی سرگرمی کے طور پر پیش کرتا ہے۔اس کے علاوہ کوہِ نور کے 17 جولائی 1855ء کے شمارے میں “News from Multan” کے عنوان سے شائع خبر ریاضِ نور پر مبنی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملتان کا اخبار اتنا مستند تھا کہ لاہور کے بڑے اخبار میں بطور ماخذ استعمال ہو رہا تھا۔

ملتان اور لاہور کے اخباری بیانیے کے تقابلی جائزہ میں‌ لاہور،انتظامی مرکز ہونے کے باعث ریاستی نظم اور حکومتی بیانیہ غالب رہا، اردو کے ساتھ انگریزی اخبارات ،شہری ایلیٹ اور نوآبادیاتی ادارے بھی ترقی میں‌شامل رہے، اس طرح ریاست کے قریب ہونے کی وجہ سے "اسٹیٹ-کمپیٹیبل” بیانیہ رہا.جبکہ ملتان میں مقامی سماجی و تجارتی مسائل پر مرکوز، نسبتاً حساس اور بعض اوقات مزاحمتی بیانیہ بھی رہاہے، اخبارات اردو و فارسی روایت کےمطابق مقامی شہری اور مذہبی حلقےتک محدود تھے۔طاقت سے فاصلہ ہونےکے باعث مالی اور سیاسی دباؤ زیادہ تھا۔

ملتان کی قبل از 1857ء اخباری تاریخ کو مکمل طور پر مرتب کرنے کے لیے چند تحقیقی اقدامات ناگزیر ہیں: جن میں پنجاب آرکائیوز میں فارسی اخبارات کی منظم کیٹلاگنگ؛کوہِ نور اور دیگر اخبارات میں ملتان سے متعلق خبروں کی موضوعاتی درجہ بندی اور ملتان کے مقامی مطابع اور طباعتی معیشت پر مائیکرو ہسٹری کی تحقیق ضروری ہے.

یہ تحقیق اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ 1857ء سے پہلے پنجاب میں اخباری صحافت یکساں رفتار سے فروغ نہیں پائی۔ لاہور میں صحافت زیادہ مرکزی، ادارہ جاتی اور ریاستی بیانیے سے ہم آہنگ تھی، جبکہ ملتان میں اخبارات کم تعداد میں ہونے کے باوجود مقامی سطح پر فکری اور سماجی اہمیت کے حامل تھے۔یوں “ملتان بمقابلہ لاہور” کا فرق محض اشاعت کی تعداد کا نہیں بلکہ بیانیہ، ترجیح اور طاقت سے تعلق کا فرق ہے ۔

Untitled 2025 06 04T010448.935
سید خالد جاوید بخاری
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف تحقیقی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں