اکرام بکائنوی
پاکستان کی سردی کی صورتحال بظاہر ایک موسمی موضوع دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ مسئلہ قومی تعلیمی ڈھانچے، سماجی مساوات، معاشی کمزوری اور فکری ترقی سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جغرافیائی تنوع نہ صرف ثقافت اور زبانوں میں بلکہ موسموں کی شدت میں بھی نمایاں ہے۔ شمالی پہاڑی علاقوں کی طویل اور سخت سردی، وسطی علاقوں کی دھند اور کہر، اور جنوبی خطوں کی نسبتاً معتدل سردی تعلیمی نظام پر مختلف مگر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ اثرات صرف چند مہینوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ سال بھر تعلیمی معیار، طلبہ کی کارکردگی اور قومی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔
سردی کا سب سے پہلا اور بنیادی اثر تعلیمی تسلسل پر پڑتا ہے۔ پاکستان کے لاکھوں طلبہ، خصوصاً دیہی، پہاڑی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے بچے، سرد موسم میں اسکول تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ برف باری، شدید سرد ہوائیں، کہر اور بارش نہ صرف آمد و رفت کو مشکل بناتی ہیں بلکہ جان کے خطرات بھی بڑھا دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں والدین بچوں کو گھر پر بٹھانا ہی محفوظ سمجھتے ہیں۔ یہ غیر حاضری ابتدا میں عارضی ہوتی ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی خلا میں تبدیل ہو جاتی ہے جو نصاب سے دوری، امتحانی کمزوری اور بالآخر ترکِ تعلیم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
پاکستان میں غربت اور سردی کا گٹھ جوڑ تعلیم کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ایسے خاندان جو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں ہی مشکلات کا شکار ہوں، وہ سردیوں میں تعلیم کو ترجیح نہیں دے پاتے۔ گرم لباس، جوتے، ایندھن اور صحت کے اخراجات تعلیمی ضروریات پر سبقت لے جاتے ہیں۔ نتیجتاً بچوں کو اسکول کے بجائے گھریلو کاموں یا معاشی سرگرمیوں میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ قومی سطح پر تعلیمی پسماندگی اور سماجی عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔
تعلیم میں طبقاتی فرق سردی کے موسم میں مزید واضح ہو جاتا ہے۔ نجی تعلیمی ادارے بہتر عمارتوں، بند کمروں، ہیٹنگ سسٹم اور سہولیات کے باعث سردی کے اثرات کو کسی حد تک کم کر لیتے ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ ہزاروں سرکاری سکول ایسے ہیں جہاں کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی، دروازے ناکارہ اور فرش ناہموار ہیں۔ ان حالات میں سردی محض موسم نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل کے خلاف ایک مستقل مزاحمت بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیمی مساوات کا تصور عملی طور پر دم توڑ دیتا ہے۔
سردی کا اثر صرف حاضری تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کی صحت کے ذریعے تعلیمی کارکردگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ سرد موسم میں نزلہ، زکام، فلو، نمونیا اور سانس کی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں، خاص طور پر کم عمر بچوں میں۔ بیمار جسم کے ساتھ سیکھنے کا عمل مؤثر نہیں رہتا۔ توجہ کی کمی، ذہنی تھکن اور یادداشت کی کمزوری ایسے عوامل ہیں جو تعلیمی معیار کو خاموشی سے کمزور کرتے ہیں۔ تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ناموزوں درجۂ حرارت میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی سیکھنے کی رفتار نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔
یہ اثرات نفسیاتی سطح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ مسلسل غیر حاضری، تعلیمی دباؤ اور سرد ماحول طلبہ میں بے دلی، عدم دلچسپی اور خود اعتمادی میں کمی پیدا کرتا ہے۔ بہت سے بچے تعلیم کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے علم حاصل کرنا سہولت نہیں بلکہ جدوجہد بن جاتا ہے۔ یہ ذہنی کیفیت طویل مدت میں تعلیمی اہداف سے دوری اور سماجی انخلا کا سبب بنتی ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔
سردی صنفی عدم مساوات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم پہلے ہی سماجی دباؤ اور روایتی سوچ کا شکار ہے۔ سردیوں میں یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ بچیوں کو گھریلو ذمہ داریوں، ایندھن جمع کرنے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال میں لگا دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ان کی تعلیمی غیر حاضری بڑھتی ہے اور بالآخر وہ تعلیمی نظام سے باہر ہو جاتی ہیں۔ تحقیقی شواہد واضح کرتے ہیں کہ موسمی رکاوٹوں کا سب سے زیادہ نقصان بچیوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
اساتذہ کے لیے بھی سردی ایک بڑا امتحان ہے۔ دور دراز اور سرد علاقوں میں تعینات اساتذہ نہ مناسب رہائش رکھتے ہیں، نہ سفری سہولت اور نہ ہی تدریسی معاونت۔ شدید سرد موسم میں اساتذہ کی غیر حاضری یا تاخیر تعلیمی تسلسل کو متاثر کرتی ہے۔ مزید یہ کہ سرد ماحول میں تدریس کے لیے درکار توانائی، آواز اور جسمانی فعالیت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب استاد خود موسمی دباؤ کا شکار ہو تو طلبہ تک علم کی مؤثر منتقلی ممکن نہیں رہتی۔
تعلیمی انفراسٹرکچر پاکستان میں سردی کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ زیادہ تر سکولوں کی عمارتیں موسمی تقاضوں کے مطابق نہیں بنائی گئیں۔ سرد علاقوں میں بھی وہی ڈیزائن اختیار کیا گیا جو گرم علاقوں کے لیے موزوں تھا۔ موصلیت، ہیٹنگ اور وینٹی لیشن کا فقدان کلاس روم کو سیکھنے کے بجائے آزمائش کی جگہ بنا دیتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ تعلیمی منصوبہ بندی میں موسمی تحقیق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
کالجوں اور جامعات پر بھی سردی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان اداروں میں سہولیات نسبتاً بہتر ہوتی ہیں، مگر شدید سردی، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور توانائی کے بحران تدریسی تسلسل کو متاثر کرتے ہیں۔ امتحانات کا ملتوی ہونا، کلاسز کی منسوخی اور تعلیمی کیلنڈر میں خلل طلبہ پر ذہنی دباؤ بڑھاتا ہے اور تعلیمی نظم و ضبط کو کمزور کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی کو اکثر سردی کے مسئلے کا حل قرار دیا جاتا ہے، مگر پاکستان میں یہ حل اپنی حدود رکھتا ہے۔ آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل اسائنمنٹس اور ریکارڈ شدہ لیکچرز ان طلبہ کے لیے مؤثر ثابت ہوتے ہیں جنہیں بجلی، انٹرنیٹ اور آلات میسر ہوں۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات کی کمی اس حل کو عدم مساوات کا ایک نیا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی اس وقت فائدہ مند ہوتی ہے جب بنیادی سہولیات سب کے لیے یکساں ہوں۔
سردیوں کی تعطیلات ایک انتظامی حکمتِ عملی کے طور پر اختیار کی جاتی ہیں، مگر ان کی منصوبہ بندی اکثر غیر متوازن ہوتی ہے۔ کہیں تعطیلات ناکافی ہوتی ہیں اور کہیں ضرورت سے زیادہ، جس کے نتیجے میں تعلیمی وقت ضائع ہوتا ہے۔ موسمی لچک پر مبنی تعلیمی کیلنڈر، علاقائی موسم کے مطابق تدریسی اوقات اور نصاب کی ترتیب ایک مؤثر حل ہو سکتا ہے، مگر اس پہلو پر سنجیدہ توجہ کم دی گئی ہے۔
توانائی کا بحران سردی اور تعلیم کے تعلق کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سردیوں میں گیس اور بجلی کی قلت تعلیمی اداروں کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ ہیٹنگ سسٹم کی عدم دستیابی کلاس روم کو غیر موزوں بنا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ کی توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ مناسب درجۂ حرارت تعلیم کے لیے بنیادی شرط ہے، مگر عملی سطح پر اس شرط کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
تعلیمی بجٹ اور سردی کے اثرات کے درمیان بھی گہرا تعلق ہے۔ محدود وسائل اور ناقص ترجیحات کے باعث سرد علاقوں کے اسکولوں کے لیے خصوصی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ نتیجتاً سردی کا بوجھ سب سے کمزور طبقے پر پڑتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلیم کو اب بھی ایک ثانوی شعبہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ قومی ترقی کا دار و مدار اسی پر ہے۔
بین الاقوامی تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ سردی تعلیم کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی اگر نظام موسمی حقائق کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ وہ ممالک جہاں شدید سردی معمول ہے، وہاں تعلیمی عمارتیں، کیلنڈر اور تدریسی طریقے موسم کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی علاقائی بنیادوں پر تعلیمی ماڈلز اختیار کیے جا سکتے ہیں، مگر اس کے لیے تحقیق، منصوبہ بندی اور سیاسی عزم ناگزیر ہے۔
سماجی شعور کی کمی بھی اس مسئلے کو طول دیتی ہے۔ سردی کو ایک فطری حقیقت سمجھ کر تعلیمی نقصان کو معمول بنا لیا گیا ہے، حالانکہ یہ نقصان خاموشی سے قومی مستقبل کو کمزور کر رہا ہے۔ کمیونٹی کی شمولیت، والدین کی آگاہی اور مقامی وسائل کا استعمال سردیوں میں تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
آخرکار یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تعلیم اور پاکستان کی سردی کی صورتحال ایک سنگین قومی چیلنج ہے۔ سردی ہر سال آتی ہے اور ہر سال ہزاروں بچوں کی تعلیم متاثر ہو جاتی ہے، مگر اس کے اثرات آنے والے برسوں میں کمزور تعلیمی بنیاد، کم ہنر مند افرادی قوت اور سست سماجی ترقی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان نے سردی کو محض موسم نہیں بلکہ ایک تعلیمی حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا، تحقیق پر مبنی پالیسی سازی اختیار کی اور علاقائی ضروریات کے مطابق عملی اقدامات کیے، تو یہ مسئلہ ایک موقع میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔ تعلیم کا تسلسل، معیار اور مساوات کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں، اور سردی کے باوجود اس تسلسل کو برقرار رکھنا ہی ایک باشعور، ذمہ دار اور مستقبل بین معاشرے کی پہچان ہے۔



