Untitled 2026 01 15T195137.807

2025؛ انسانی تاریخ کا مسلسل تیسرا گرم ترین سال قراردے دیا گیا

ویب نیوز: سال 2025ء انسانی تاریخ کا تیسرا مسلسل گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے اور خام ایندھن سے خارج ہونے والی آلودگی کی اس بڑی وجہ ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ 2025 میں بھی عالمی سطح پر درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافے کا سلسلہ جاری رہا۔اس عرصے میں فضائی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں اوسطاً 1.44 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا۔
Untitled 2026 01 15T195143.762
اس سے قبل 2024 انسانی تاریخ کا گرم ترین سال قرار پایا تھا جس کے دوران اوسط عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا۔اسی طرح 2023 میں اوسط درجہ حرارت 1.48 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا تھا۔

خیال رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا،
مگر ایسا اس وقت تصور کیا جائے گا جب ایک یا 2 سال کی بجائے پوری ایک دہائی کا درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.5 ڈگری زیادہ ہو۔

ماہرین کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پیرس معاہدے کا طے کردہ ہدف کا حصول اب ممکن نہیں رہا اور درجہ حرارت اس سے آگے نکل جائے گا، اب ہمارے پاس یہی انتخاب ہے کہ مستقبل کے لیے خود کو تیار کریں۔

14 جنوری کو ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے جس میں سیٹلائیٹس، بحری جہازوں، طیاروں اور موسمیاتی سٹیشنز کے 8 ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ پیش کیا گیا تھا۔ڈبلیو ایم او کے تجزیے میں شامل 6 ڈیٹا سیٹس میں 2025 کو تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا جبکہ دیگر 2 میں سے دوسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا۔

سائنسدانوں کے مطابق بحرالکاہل میں ایل نینو موسمیاتی رجحان سے 2023 اور 2024 میں عالمی درجہ حرارت 0.10 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا۔واضح رہے کہ ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، مگر 2025 میں ایل نینو کمزور ہوگیا تھا مگر اس کے باوجود درجہ حرارت میں کوئی خاص کمی دیکھنے میں نہیں آئی، جس سے مستقبل کی جھلک ملتی ہے۔

یورپی موسمیاتی ادارے Copernicus کے مطابق جنوری 2025 تاریخ کا گرم ترین جنوری تھا جبکہ مارچ، اپریل اور مئی دوسرے گرم ترین مہینے رہے۔درحقیقت 2025 کا ہر مہینہ ماسوائے فروری اور دسمبر 2023 سے قبل کے برسوں کے مقابلے میں گرم ترین رہا۔

اس غیرفطری حرارت کی بڑی وجہ کاربن آلودگی کا اخراج ہے جس سے موسمیاتی شدت کو بدترین بنایا ہے۔Copernicus کے مطابق بحر اوقیانوس اور بحر ہند کا درجہ حرارت 2025 میں 2024 کے مقابلے میں کم تھا مگر قطبین میں درجہ حرارت بڑھ گیا۔

2025 انٹارکٹیکا کے لیے گرم ترین سال رہا جبکہ آرکٹک کے لیے دوسرا گرم ترین سال قرار پایا۔2025 کے دوران زمین کے 50 فیصد خشکی والے خطوں کو اوسط کے مقابلے میں زیادہ گرم دنوں کا سامنا ہوا اور اس دوران درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا۔

سائنسدانوں کے مطابق دنیا کی ساڑھے 8 فیصد آبادی ایسے خطوں میں مقیم ہے جہاں گزشتہ سال سالانہ اوسط درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر رہا اور 2026 میں بھی یہ سلسلہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں