لاہور:بسنت کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں، شہر کو بسنتی رنگوں سے سجانے کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ای بز پورٹل پر پتنگ فروشوں، مینوفیکچررز اور ٹریڈرز کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔
ای بز پورٹل رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 993 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 650 منظور کر لی گئیں، 58 درخواستیں مسترد جبکہ 284 درخواستوں کا فیلڈ سروے جاری ہے۔ پتنگ اور ڈور کی فروخت کے لیے 530 درخواستوں میں سے 340 منظور کی گئیں، جبکہ 218 پتنگ سازوں کو پتنگ اور ڈور بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق لاہور کی 23 اہم شاہراؤں کو بسنتی رنگوں سے سجایا جائے گا۔ راوی ٹول پلازہ، جی ٹی روڈ، پائن ایونیو، نیازی انٹرچینج، آزادی چوک، سرکلر گارڈن، شاہراہ قائداعظم، شادمان اور ایم ایم عالم روڈ سمیت دیگر اہم سڑکوں پر بسنت کی بہار نظر آئے گی۔بسنت کے موقع پر ساؤنڈ سسٹم ایکٹ میں بھی نرمی کی جائے گی، جس کے تحت شہری پتنگ بازی کے ساتھ بلند آواز موسیقی سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رجسٹرڈ پتنگ اور ڈور سازوں کو 30 دسمبر سے تیاری جبکہ پتنگ فروشوں کو یکم فروری سے فروخت کی اجازت دے دی گئی ہے۔
دوسری جانب لاہورہائیکورٹ نے کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مسترد کردی۔عدالت نے فریقین کو دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے کارروائی 16 جنوری تک ملتوی کردی۔
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، پتنگ بازی خونی کھیل ہے اس کی اجازت دینا شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کائٹ فلائنگ ایکٹ کو کالعدم قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے۔ عدالتی حکم پر درخواست گزار نے کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کو فریق بنادیا۔

