424959 9500826 updates

بانجھ پن کا خاتمہ، بچوں کی پیدائش میں‌مسائل کے علاج کیلئے ’3ڈی چپ‘ تیار

ویب نیوز:جب ایک ننھا سا بچہ ماں کے پیٹ میں اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے، تو وہ پہلے چند دنوں میں وہاں کیسے تخلیق کے عمل سے گزرتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا راز تھا لیکن اب چین کے سائنسدانوں نے اس راز کو سمجھنے کے لیے ایک چپ تیار کر لی۔

چینی سائنسدانوں کی سربراہی میں ٹیم نے دنیا کی پہلی "منی وومب آن اے چپ” (Mini-womb on a chip) تیار کی ہے۔ یہ اصل میں ایک چھوٹی سی مشین یا چپ ہے جو بالکل ویسے ہی کام کرتی ہے جیسے ماں کا رحم (بچہ دانی) کام کرتا ہے۔
Untitled 2026 01 10T220004.821
جب بچہ پیدا ہونے کا عمل شروع ہوتا ہے تو وہ ایک بہت ہی چھوٹے بیج کی طرح ہوتا ہے جسے ‘جنین’ (Embryo) کہتے ہیں۔ اس بیج کو ماں کے رحم کی دیوار کے ساتھ جڑنا ہوتا ہے تاکہ وہ بڑھ سکے۔ اس عمل کو سائنس کی زبان میں ‘امپلانٹیشن’ کہتے ہیں۔

پہلے سائنسدانوں کے لیے یہ دیکھنا بہت مشکل تھا کہ یہ سب کیسے ہوتا ہے کیونکہ یہ سب ماں کے جسم کے اندر ہوتا ہے لیکن اب اس نئی 3D چپ کی مدد سے وہ اپنی لیبارٹری میں بالکل ویسے ہی دیکھ سکتے ہیں جیسے ننھا سا جنین بچہ دانی کی دیوار کے قریب کیسے آتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ مضبوطی سے کیسے چپکتا ہے اور وہ دیوار کے اندر جگہ بنا کر کیسے بیٹھ جاتا ہے۔

بہت سی ایسی خواتین ہیں جو ماں بننا چاہتی ہیں لیکن وہ حاملہ نہیں ہو پاتیں۔ اس چپ کی مدد سے ڈاکٹرز یہ سمجھ سکیں گے کہ ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اس چپ پر امریکی ادارے ایف ڈی اے کی منظور شدہ ایک ہزار سے زیادہ دوائیوں کا ٹیسٹ بھی کیا ہے تاکہ ایسی دوائیاں ڈھونڈی جا سکیں جو خواتین کو بچہ پیدا کرنے میں مدد دے سکیں۔

سائنسدانوں نے اس کام کے لیے اصلی جنین کے ساتھ ساتھ ‘بلاسٹرائڈز’ (Blastoids) بھی استعمال کیے۔ یہ لیبارٹری میں بنائے گئے جنین جیسے چھوٹے چھوٹے ماڈلز ہوتے ہیں جن پر تجربات کرنا آسان اور اخلاقی طور پر بہتر ہوتا ہے۔اگرچہ یہ چپ بہت کمال کی ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ابھی بالکل اصلی انسانی رحم جیسی نہیں ہے۔ اس میں ابھی خون کی نالیاں اور مدافعت (بیماریوں سے لڑنے والے خلیے) موجود نہیں ہیں جو بچے کی نشوونما کے دوران اسے خون پہنچانے اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے بتایا کہ "یہ 3D مشین ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ حمل کیوں ٹھہرتا ہے اور کیوں ناکام ہو جاتا ہے۔ اس سے ہمیں ہسپتالوں میں ایسے نئے اور بہتر علاج شروع کرنے کا موقع ملے گا جس سے ماں اور بچے کا رشتہ مزید مضبوط ہو سکے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں