انیلا اشرف
کشور ناہید "بری عورت کی کتھا” سے "ہم گناہگار عورتیں” تک کے سفر سے پہلے برقعے سے نکلیں تو بہت کچھ پیچھے چھوڑ دیا۔عورت کیلئے تکریم کی خواہش اور تخلیق کشور ناہید جیسی شاعرہ و دانشور ہی کر سکتی تھی.اپنے دکھوں،بیماری اور اکیلے پن سے لڑائی کے دوران انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے تحت خدمات سرانجام دینے والوں کے ساتھ شام بسر کرنے کیلئے سرد دنوں میں بستر سے ہشاس بشاس ہو کر ہوٹل پہنچیں اور ماضی کے جھروکوں سے اپنی جہد مسلسل کو دہرایا۔
متحدہ بھارت میں 19 جون 1940ء کے روز پیدا ہونے والی کشور ناہیدنے اپنی زندگی کے تمام فیصلے روایت سے ہٹ کر کیے۔اپنی ذاتی زندگی اورنوجوانی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے عورتوں کیلئے اپنی کاوشوں کو بھی ذکر کیا۔ میری طرح پردے سے نکلنا مشکل ہوتا ہے نکلنے کے بعد کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے کھڑے ہونے کے بعد چلنا مشکل ہوتا ہے اور چلنے کے بعد راستہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کہاں کا راستہ ہے۔
معروف شاعرہ اور خواتین کے حقوق کی علمبردار کشور ناہید 1940 میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ایک قدامت پسند گھٹے ہوئے ماحول میں پرورش پائی۔وہ 1949 میں تقسیم کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور آ گئیں۔ کشور تقسیمِ ہند کے ساتھ منسلک پُر تشدد اور خواتین کے ساتھ ہونے والے واقعات کی چشم دید گواہ ہیں۔ نوجوانی میں کشور ناہید ان لڑکیوں سے متاثر تھیں، جنہوں نے اس زمانے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جانا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے ادیب فاضل اردو میں مکمل کیا اور فارسی سیکھی۔ وہ نوعمری میں ہی ایک شوقین قاری بن گئی تھیں۔ جب خواتین کو اسکول جانے کی اجازت نہیں تھی تو انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے 1959 میں بیچلر آف آرٹس اور 1961 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے معاشیات میں ماسٹرز کیا۔ کشور ناہید نے اپنے ہم عصر شاعر یوسف کامران سے شادی کی ان کے دو بیٹے ہیں۔اپنے شوہر کی وفات کے بعد، انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش اور خاندان کی کفالت کے لیے کام کیا۔
کشورناہید پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر کام کرتی رہی ہیں ۔ادبی جریدے ماہ نو کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیتی رہی ہیں۔ ان کا اولین شعری مجموعہ ’’لبِ گویا‘‘ 1968 میں منظر عام پر آیا اور اسے خوب پذیرائی بھی ملی۔ ایک تنظیم "حوا "کی بنیاد رکھی جس کا مقصد کاٹیج انڈسٹریز اور دستکاری کی فروخت کے ذریعے آزاد آمدنی کے بغیر خواتین کو مالی طور پر خود مختار بننے میں مدد کرنا ہے۔
ان کی تصانیف میں” باقی ماندہ خواب، عورت زبان خلق سے زبان حال تک، عورت خواب اور خاک کے درمیان، خواتین افسانہ نگار 1930 سے 1990 تک، زیتون، آجاؤ افریقہ، بری عورت کی کتھا، بری عورت کے خطوط، زائیدہ بیٹی کے نام، سیاہ حاشیے میں گلابی رنگ، بے نام مسافت، لب گویا، خیالی شخص سے مقابلہ، میں پہلے جنم میں رات تھی، سوختہ سامانیٔ دل، کلیات دشتِ قیس میں لیلیٰ، لیلی خالد، ورق ورق آئینہ، شناسائیاں، رسوائیاں، شامل ہیں۔انہیں آدم جی ایوارڈ، یونیسکو ادب برائے اطفال ایوارڈ، کولمبیا یونیورسٹی (بہترین مترجمہ)، منڈیلا ایوارڈ 1997 اور ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
کشور ناہید کہتی ہیں کہ تقسیم ہند کے وقت میں نے عورتوں کی ٹانگوں کے درمیان اس عورت کے پیر دیکھے،وہ پیر میرے ذہن میں آج تک بیٹھے ہیں۔مٹی وخون ان پر تازہ تھا۔پتا نہیں کہاں سے بھاگی ہوئی آئی تھی اور کیسے آئی تھے۔بہرحال وہ ایک نشانی انڈیا میں تقسیم کی موجود تھی۔ تقسیم ہند کے وقت زندگی میں پہلی بار لفظ اغواء سنا اور اغواء ہوتی لڑکیاں دیکھیں۔اس کے بعد پاکستان آگئےلیکن سوال تھا کہ پاکستان میں اب کہاں رہیں ؟.میری خالہ تھیں جن کے میاں ڈی سی آفس میں کام کرتے تھے انہیں بڑا گھر ملا ہوا تھا۔ہم سب بہن بھائی ایک بڑے سے کمرے میں، دو سال تک ہم سات بہن وبھائی اور اماں و ابا رہے۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئےکزنز سے باتیں کرنا منع تھا۔ سید گھرانہ ہونے کی وجہ سےپابندیاں ہی پابندیاں تھیں اور وہ روایات سے باغی روح تھیں.
ان کا کہنا ہے کہ پابندیاں عورتوں کی نگاہ فسخ کردیتی ہیں.مردوں کے ساتھ جلسوں و مشاعروں پر جانے کی پابندی کااحساس اندر کھٹک رہا تھا، تو پھر ہم گنہگار عورتیں ہی آتا تھا۔وہ پتا نہیں گنہگار عورتیں لکھنے کا کیا گناہ کردیا گیا کہ ساری دنیا کی زبانوں ،ٹی وی اور ریڈیو پر گنہگار عورتیں ترجمہ کرکے گائی جاتی ہے، ڈانس کیا جاتا ہے۔ابھی لندن میں پندرہ روزہ باقاعدہ کانفرنس ہوئی ہے جس میں گنہگار عورتیں پڑھی گئی۔انہوں نے بتایا کہ عورتوں کے حقوق کی جووجہد آسان نہیں تھی۔عورتوں کے جلوس پر لاٹھی چارج کیا گیا،جس پر آدھی عورتیں جیل اور آدھی ہسپتال میں تھیں۔صبح کے اخبارمیں چھوٹی سی خبر لاٹھی چارج کی تھی ساتھ تحریر تھا کہ جو عورتیں جلوس میں شریک تھیں ان کے نکاح فسخ(منسوخ) ہو گئے، تو میں نے اپنے شوہر یوسف کامران سے کہا تم تو آزاد ہوئے۔
یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہجرت کے وقت انڈیا سے پیسے منتقل نہیں ہوئے تھے۔راجا صاحب محمود آباد نے ایک سال کی تنخواہ دی تھی۔پرانےلوگ بتاتے ہیں کہ ہم کاغذ کو تنکا لگا کر رکھتے تھے کیونکہ پیسے نہیں ہوتے تھے۔ تقسیم کے وقت ہجرت بہت زیادہ ہورہی تھی تونہرو نے معاہدہ کیا کہ گاندھی جی نے کہا تھا کہ یہ سلسلہ روکوں پھر شرط لگی کہ وہ لوگ آجا سکتے ہیں جن کے خاندان میں سے کوئی نہ کوئی دونوں ملکوں میں موجود ہو۔پھر وہی میرے بھائی جو بلوائیوں کے ہاتھوں مشکل سے بچے تھے انہوں نے ہمیں پاکستان بلوایا۔سکول جانے کی اجازت نہیں تھی تو گھر میں پڑھتی تھیں کیونکہ نہ تو سلیبس تھا نہ ہی داخلہ کیلئے کوئی جگہ تھی۔اس وقت پڑھنے کیلئے انہوں نے آل احمد سرور کی کتاب سے شروع کیا۔جو پتا نہیں کیوں مل گئی تھی۔36 مرتبہ پڑھنے پر کتاب انہیں رٹ گئی تھی۔پھر کچھ نہیں ملتا تھا تو نیول کشور کی ڈکشنری مل گئی جیسے پڑھتی رہتی تھیں۔ میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخہ لیا۔ فرسٹ ایئر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود ان کا علمی و ادبی سفر جاری رہا۔ تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔ کالج کے سامنے لائبریری تھی وہاں جاتی تھیں پھر وہاں سے اٹھ کر ٹی ہاؤس چلی جاتی تھیں۔پھر وہاں سے گھر جاتی تھیں تو 10 بج جاتے تھے تو پھر اس کے بعد ساری زندگی 10 بجتے رہے اور کبھی کبھی وہ 10 بجے 12 بھی بج جاتے تھے تو گھر پر لڑائی ہوتی۔�
انہوں نے اپنے فنی اور ادبی سفر کی راہ میں حائل مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوجی حکمران ضیاء الحق کے دور میں معاشرے اور ادیبوں کو عجیب طرح کی سنسرشپ کا سامنا رہا اور تب آزادیٴ رائے ناپید ہو گئی تھی۔ ضیا الحق کےمارشل لاکا زمانہ تھا تو کبھی جاوید شاہی تو کبھی سلیم شاہد اور کبھی کسی کا پتا چلتا کہ پکڑا گیا۔ہم نے کیا کرنا ہوتا تھا کہ دونوں میاں و بیوی نے ضمانت کرانی ہوتی تھی۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ لوہاری چوک پہ تھانہ والوں نے حبیب جالب کو پکڑ لیا۔انہوں نے لوگوں کی فوج تیار کی اور انہیں چھڑانے کیلئے گئی کیونکہ وہ بہت بڑی چیز تھا ایسے تو اسے کوئی نہ چھوڑتا۔
انہوں نے اپنے دوستوں کی تعریف اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ زندگی کے دشت کی تنہائی میں کبھی اکیلی نہیں رہیں بلکہ ان کے دوست احباب نے، جن کو وہ اکثر اپنی ‘سہیلیاں‘ قرار دیتی ہیں، ہمیشہ ان کا خیال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا، ان کی دوستی میں مرد، عورت سب برابر ہیں۔ان کی زندگی کا حاصل ان کا یہ شعر ہی گفتگو کا اختتام تھا کہ …
ہمیں دیکھو ہمارے پاس بیٹھو ہم سے کچھ سیکھو
ہم نے پیار مانگا تھا، ہم نے داغ پائے ہیں

