سید خالد جاوید بخاری
1848–1849 کی دوسری سکھ جنگ میں ملتان کی مزاحمت اور اس کے بعد برطانوی قبضہ جنوبی ایشیا کی نوآبادیاتی تاریخ کا اہم موڑ تھا۔ملتان برصغیر کی قدیم ترین شہری تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ اس کے گرد و نواح میں تاریخی قلعہ، قدیم مندر، بزرگوں کے مزارات اور بازار ہمیشہ سے اس خطے کے تمدنی ارتقا کے گواہ رہے ہیں۔انیسویں صدی کے وسط میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب پر قبضے کی مہم تیز کی تو ملتان وہ مقام بن گیا جہاں مزاحمت نے برطانوی حکمتِ عملی کو چیلنج کیا۔ دیوان مولراج نے مزاحمت کی قیادت کی، اور یہ لڑائی ملتان کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں شمار ہوتی ہے۔
برطانوی مصور و انگریز افسر M. Vossegi کی کتاب “Mooltan Before & After Its Attack & Capture” اسی پس منظر میں وجود میں آئی۔ یہ کتاب روایتی نوآبادیاتی انداز میں ایک مخصوص زاویۂ نگاہ پیش کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں موجود تصویری مواد تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔یہ کتاب مشاہدات اور تصویری خاکوں پر مشتمل ہے، اور ملتان کی جنگ، قلعہ، مقامی آبادی، فوجی نقل و حرکت اور حملے کے مناظر کی بصری دستاویز ہے۔ مصنف: M. Vossegi Esqr (ممکنہ طور پر برطانوی آرمی و سروے ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ) تھے اور اس کا بنیادی موضوع ملتان کا حملہ، محاصرہ، قلعہ، بستی، فوجی نقل و حرکت، تباہ شدہ عمارتیں، مقامی لوگ، تاریخی یادگاریں ہیں، جو تصویری تاریخی دستاویز (Illustrated Record ) ہے اور زمانہ 1849 کے قریب کی ہے، جس کی بنیادی خصوصیات قلعۂ ملتان کے اندر و باہر کے نادر خاکے، برطانوی توپ خانے کی پوزیشنیں
"Before & After” یعنی حملے سے پہلے اور بعد کی تصویری موازنہ جاتی دستاویز ہونے کے ساتھ اس میںنوآبادیاتی بیانیہ کا غالب رنگ ہے.
اس کتاب کا باب اول؛ ملتان کی تاریخی اہمیت اور جنگی پس منظر، سکھ سلطنت کا پس منظر، رنجیت سنگھ کے بعد پنجاب میں سیاسی کمزوری، دیوان مولراج کی مالی و سیاسی کشمکش،مقامی و بیرونی قوتوں کی کشمکش، برطانوی فوجی مہم، برطانوی فوج کا دو طرفہ محاصرہ، توپ خانے کی حکمتِ عملی،مقامی مزاحمت کا سخت تر جواب،نوآبادیاتی نقطہ نظر، کتاب میں برطانوی حکمتِ عملی اور "متمدن فاتح” کا بیانیہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ملتان کو اکثر "rebellious city” کہا گیا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ مقامی حکومت کی خودمختاری کی جنگ تھی۔باب دوم میں کتاب کے اقتباسات، ترجمہ اور تشریحات شامل ہیں.اس کتاب کے مختلف اقتباسات پیش ہیں:-
اقتباس 1
اصل متن:
"The City of Mooltan presented a formidable aspect, with its massive walls and imposing citadel rising above the plains.”
اردو ترجمہ:
"ملتان شہر ایک نہایت مضبوط منظر پیش کرتا تھا، اس کی ضخیم فصیلیں اور بلند و بالا قلعہ میدانوں کے اوپر ابھرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔”
تشریح:
یہ اقتباس اس وقت کے ملتان قلعے کی عظمت بیان کرتا ہے۔ یہ قلعہ ہزاروں سالہ تعمیراتی روایت کا حصہ تھا۔ برطانوی ذرائع قلعے کی مضبوطی کو جنگ کا جواز ظاہر کرنے کے لیے نمایاں کرتے تھے۔
اقتباس 2
اصل متن:
"The resistance offered by the garrison was stronger than anticipated, prolonging the siege for months.”
اردو ترجمہ:
"قلعے کے محافظوں کی مزاحمت توقع سے کہیں زیادہ سخت تھی، جس نے محاصرہ کئی مہینوں تک طول دے دیا۔”
تشریح:
یہ دیوان مولراج اور ان کے لشکر کی بہادری کی طرف اشارہ ہے۔ برطانوی مؤرخین اکثر مزاحمت کو "unexpected” لکھتے ہیں تاکہ اپنی فوجی مشکلات کو نمایاں کریں، جبکہ حقیقت میں یہ عوامی مزاحمت تھی۔
اقتباس 3
اصل متن:
"Many of the ancient structures suffered great damage during the bombardment.”
اردو ترجمہ:
"گولہ باری کے دوران بہت سے قدیم آثار کو شدید نقصان پہنچا۔”
تشریح:
یہ نقصان صرف جنگ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے بعد کی نوآبادیاتی بے توجہی نے بھی ملتان کے آثارِ قدیمہ کو متاثر کیا۔ کتاب میں مقامِ افسوس ہے کہ نقصان کا اعتراف ضرور کیا جاتا ہے مگر اس کے محرکات کی ذمہ داری کم ظاہر کی جاتی ہے۔
اقتباس 4
اصل متن:
"The bazars, once vibrant with life, were left deserted and ruined after the capture.”
اردو ترجمہ:
"وہ بازار جو کبھی زندگی سے بھرپور ہوتے تھے، قبضے کے بعد سنسان اور کھنڈر بن چکے تھے۔”
تشریح:
یہ اقتباس مقامی سماج کی بربادی کو ظاہر کرتا ہے۔ نوآبادیاتی جنگوں میں سب سے زیادہ نقصان عوامی زندگی اور معیشت کو ہوتا ہے، جس کا ذکر اکثر ضمنی طور پر کیا جاتا ہے۔
اقتباس 5
اصل متن:
"The fall of Mooltan marked a decisive step towards the consolidation of British power in the Punjab.”
اردو ترجمہ:
"ملتان کا سقوط پنجاب میں برطانوی طاقت کے استحکام کی طرف ایک فیصلہ کن قدم تھا۔”
تشریح:
یہ نوآبادیاتی بیانیہ ہے، جو قبضے کو ’استحکام‘ کا نام دیتا ہے۔ مقامی نقطۂ نظر سے یہ آزادی اور خودمختاری کے خاتمے کا دن تھا۔
اقتباس 6
"The fort, with its double walls and deep trenches, posed a significant challenge.”
ترجمہ:
دوہری فصیلیں اور گہری خندقیں بڑا چیلنج تھیں۔
تشریح:
قلعہ انجینئرنگ کے لحاظ سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔
اقتباس 7
"The defenders fought with remarkable courage, refusing to yield under relentless fire.”
ترجمہ:
مدافعین نے بے مثال جرات سے لڑا اور ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا۔
تشریح:
ملتان کے سپاہیوں کا کردار۔
اقتباس 8
"Smoke and dust covered the skyline as batteries pounded the city day and night.”
ترجمہ:
توپوں کی گولہ باری سے دھواں اور گرد شہر کے افق پر چھائی رہتی تھی۔
تشریح:
شہر کی تباہی کا نقشہ۔
اقتباس 9
"Within the fort, narrow streets lay choked with debris.”
ترجمہ:
قلعے کی تنگ گلیاں ملبے سے اٹی پڑی تھیں۔
تشریح:
جنگ کے بعد کی حالت۔
اقتباس 10
"The enemy fire could not halt the advancing British columns.”
ترجمہ:
دشمن کی گولہ باری کے باوجود برطانوی دستے آگے بڑھتے رہے۔
تشریح:
نوآبادیاتی “ناقابلِ شکست” بیانیہ۔
اقتباس 11
"The blue dome of the great shrine bore deep scars of war.”
ترجمہ:
عظیم مزار کا نیلا گنبد جنگ کے گہرے نشانات سے داغدار تھا۔
تشریح:
روحانی ورثے کو نقصان۔
اقتباس 12
"People fled in thousands, seeking refuge beyond the river.”
ترجمہ:
لوگ ہزاروں کی تعداد میں شہر چھوڑ کر دریا پار پناہ ڈھونڈنے لگے۔
تشریح:
مہاجرت کی ابتدائی شکل۔
اقتباس 13:
"The majestic gates were charred and splintered by repeated assaults.”
ترجمہ:
قلعے کے شاندار دروازے جل چکے تھے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔
تشریح:
دروازے سب سے زیادہ نشانہ بنے۔
اقتباس 14
"The Ravi flowed calmly, indifferent to the destruction on its banks.”
ترجمہ:
دریائے راوی تباہی کے باوجود خاموشی سے بہتا رہا۔
تشریح:
قدرت اور جنگ کا تضاد۔
اقتباس 15
"Stones and muskets were the last resort of the desperate defenders.”
ترجمہ:
پتھر اور بندوقیں محافظوں کا آخری ہتھیار رہ گئی تھیں۔
تشریح:
مزاحمت کی آخری جھلک۔
اقتباس 16
"The ancient walls held longer than any European engineer had predicted.”
ترجمہ:
قدیم دیواریں یورپی انجینئروں کی توقع سے زیادہ دیر قائم رہیں۔
تشریح:
مقامی فنِ تعمیر کی عظمت۔
اقتباس 17
"A profound silence followed the hoisting of the British flag.”
ترجمہ:
برطانوی پرچم لہرائے جانے کے بعد ایک گہری خاموشی چھا گئی۔
تشریح:
شہر کی بے بسی۔
اقتباس 18
"The treasury lay half-burnt, its riches scattered.”
ترجمہ:
خزانہ نصف جلا ہوا تھا اور اس کی دولت بکھری ہوئی تھی۔
تشریح:
دیوان مولراج کی مالیات۔
اقتباس 19
"The temples, once radiant, stood in ruins.”
ترجمہ:
جو مندر کبھی روشن تھے، اب کھنڈرات تھے۔
تشریح:
ہندو ورثہ بھی تباہ ہوا۔
اقتباس 20
"Mooltan, the frontier jewel, lay broken before the new rulers.”
ترجمہ:
ملتان، جو کبھی نگینہ تھا، نئے حکمرانوں کے سامنے ٹوٹا پڑا تھا۔
تشریح:
نوآبادیاتی تسلط کی علامت۔
اقتباس 21
"Columns of smoke rose daily as batteries found fresh targets.”
ترجمہ:
توپ خانہ نئے نئے مقامات کو نشانہ بناتا اور روزانہ دھوئیں کے ستون اٹھتے تھے۔
تشریح:
جنگ کے تسلسل کی تصویر۔
اقتباس 22
"The citadel’s wells ran dry due to constant bombardment.”
ترجمہ:
مسلسل گولہ باری کے باعث قلعے کے کنویں خشک ہو گئے۔
تشریح:
پانی کی قلت دفاع میں اہم موڑ تھی۔
اقتباس 23
"Women and children sought shelter in underground chambers.”
ترجمہ:
عورتیں اور بچے زیرِ زمین کمروں میں پناہ لیتے تھے۔
تشریح:
جنگ میں شہریوں کی حالت۔
اقتباس 24
"The British artillery was relentless, breaking centuries-old masonry.”
ترجمہ:
برطانوی توپ خانہ بے رحمی سے صدیوں پرانی دیواروں کو توڑ رہا تھا۔
تشریح:
قدیم ورثہ تباہ ہوا۔
اقتباس 25
"The defenders’ supplies dwindled with each passing day.”
ترجمہ:
مدافعین کے ذخائر ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہو رہے تھے۔
تشریح:
محاصرے کا اثر۔
اقتباس 26
"Merchants lamented the loss of goods worth fortunes.”
ترجمہ:
تاجروں نے اپنی لاکھوں کی دولت کے نقصان پر فریاد کی۔
تشریح:
اقتصادی تباہی۔
اقتباس 27
"The once-thriving caravan routes fell silent.”
ترجمہ:
جو قافلہ گزرگاہیں کبھی آباد تھیں، خاموش پڑ گئیں۔
تشریح:
تجارت کا خاتمہ۔
اقتباس 28
"The Sikh soldiers fought with admirable discipline alongside local forces.”
ترجمہ:
سکھ سپاہیوں نے مقامی افواج کے ساتھ قابلِ تعریف نظم و ضبط سے جنگ کی۔
تشریح:
مزاحمتی اتحاد۔
اقتباس 29
"Many houses bore marks of cannonballs that pierced their walls.”
ترجمہ:
بہت سے گھروں کی دیواریں توپ کے گولوں سے چھلنی تھیں۔
تشریح:
گھروں کی تباہی۔
اقتباس 30
"The heat of Mooltan added to the hardship of the troops.”
ترجمہ:
ملتان کی گرمی نے سپاہیوں کی مشکلات بڑھا دیں۔
تشریح:
موسمی حالات بھی اہم تھے۔
اقتباس 31
"Night raids by the defenders caused considerable alarm.”
ترجمہ:
مدافعین کے شب خون نے حملہ آوروں میں خاصی ہلچل مچا دی۔
تشریح:
مقامی حربی چالیں۔
اقتباس 32
"The city’s mosques echoed with prayers for deliverance.”
ترجمہ:
شہر کی مساجد نجات کی دعاؤں سے گونج رہی تھیں۔
تشریح:
روحانی کیفیت۔
اقتباس 33
"Granaries within the walls were set aflame by stray shells.”
ترجمہ:
بھٹکے ہوئے گولوں نے فصیل کے اندر اناج کے گوداموں کو آگ لگا دی۔
تشریح:
خوراک کی تباہی۔
اقتباس 34
"The defenders communicated through hidden passages unknown to the enemy.”
ترجمہ:
مدافعین خفیہ راستوں کے ذریعے رابطہ کرتے تھے جن کا دشمن کو علم نہ تھا۔
تشریح:
قلعے کے زیرِ زمین راستے تاریخ کا حصہ ہیں۔
اقتباس 35
"British engineers marvelled at the strength of the citadel’s foundations.”
ترجمہ:
برطانوی انجینئروں نے قلعے کی مضبوط بنیادوں پر حیرت کا اظہار کیا۔
تشریح:
مقامی تعمیراتی مہارت کا اعتراف۔
اقتباس 36
"The breach made in the wall was widened after three days of concentrated fire.”
ترجمہ:
تین روزہ شدید گولہ باری کے بعد فصیل میں شگاف وسیع ہوا۔
تشریح:
قبضے کا فیصلہ کن لمحہ۔
اقتباس 37
"The defenders chose death over surrender.”
ترجمہ:
مدافعین نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے موت کو ترجیح دی۔
تشریح:
قومی مزاحمتی علامت۔
اقتباس 38
"The city’s libraries lost rare manuscripts to flames.”
ترجمہ:
شہر کی لائبریریوں کے نایاب مخطوطے آگ میں جل گئے۔
تشریح:
علمی ورثہ تباہ ہوا۔
اقتباس 39
"After the fall, British officers surveyed the ruins with solemn reflection.”
ترجمہ:
سقوط کے بعد برطانوی افسران نے سنجیدگی سے کھنڈرات کا جائزہ لیا۔
تشریح:
فاتحین کی خاموش حیرت۔
اقتباس 40
"Mooltan’s story, written in fire and blood, became a turning point in the empire’s frontier policy.”
ترجمہ:
آگ اور خون سے لکھی گئی ملتان کی داستان برطانوی سرحدی پالیسی کا اہم موڑ بنی۔
تشریح:
ملتان کی جنگ، برطانوی پالیسی میں سنگ میل۔
باب سوم میں تصویری خاکوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے، جس میں قلعۂ ملتان کے خاکے، فصیلوں کی مضبوطی، توپوں کی پوزیشنیں، حملے کے بعد کی تباہی، مزارات و آثارِ قدیمہ جیسے شاہ رکن عالم، بہاءالدین زکریا، مندر اور تاریخی عمارتیں، مقامی آبادی کی جھلک جیسے لباس، بازار، پیشے،جنگ کے بعد کی حالت، کتاب کی تصویریں معلوماتی ضرور ہیں مگر ان میں مقامی سماج کو "غیر مہذب” اور برطانوی افواج کو "منظم” دکھایا گیا ہے، جو واضح طور پر نوآبادیاتی پیرایہ ہے۔
باب چہارم میں مقامی اور برطانوی بیانیے کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے برطانوی بیانیہ کی مقامی/تاریخی حقیقت کہ ملتان بغاوت کر رہا تھا، ملتان اپنی خودمختاری کا دفاع کر رہا تھا، برطانوی مداخلت نظم و امن کیلئے تھی، جس کامقصد پنجاب پر قبضہ تھا، مقامی لوگ غیر منظم،مقامی مزاحمت طویل اور مضبوط تھی، مگر جنگ تاریخی ضرورت، یہ سیاسی جارحیت تھی کو پیش کیا گیا ہے.
کتاب Mooltan Before & After Its Attack & Capture نوآبادیاتی دور کی بصری تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ تاہم اس کے بیانیے میں واضح نوآبادیاتی تعصب پایا جاتا ہے۔ تصویری خاکے قیمتی تاریخی مواد فراہم کرتے ہیں، مگر متن میں غلبہ برطانوی نقطۂ نظر کا ہے۔یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ملتان کی جنگ محض فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک تہذیبی سانحہ تھی، جس نے نہ صرف سیاسی نقشہ بدلا بلکہ ثقافتی ورثے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
حوالہ جات و ریفرنس:
1. M. Vossegi, Mooltan Before & After Its Attack & Capture, London, 1850 (Illustrated Plates & Notes).
2. Syed Muhammad Latif, History of the Punjab, Lahore: Sang-e-Meel Publications.
3. Gazetteer of the Multan District, 1882.
4. Major G. Carmichael Smyth, A History of the Reigning Family of Lahore, Calcutta, 1847.
5. Dr. Tahir Kamran, Colonial Punjab: A Critical Analysis, Lahore.
6. Salman Rashid, Multan: A Historical Study, Punjab Archives.
7. Punjab Records Office: “Second Sikh War Documents (1848-49).”
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔


