Untitled 2025 11 16T002045.500

لاہور کی مسمار شدہ برڈ مارکیٹ اور جانوروں کے قانون فقہ کا ارتقاء

سید خالد جاوید بخاری

لاہور کی تاریخی برڈ مارکیٹ کی مسماری کا واقعہ پاکستان میں جانوروں کے حقوق اور ماحولیاتی انصاف کے بڑھتے شعور کی بہترین مثال ہے۔ اس واقعہ نے نہ صرف انسانی بلکہ حیوانی جانوں کے نقصان کو اجاگر کیا بلکہ پاکستان میں اینیمل لاء جیورسپروڈنس (Animal Law Jurisprudence) کے قیام کی ضرورت کو بھی نمایاں کیا۔عالمی سطح پر جانوروں کے حقوق کی قانونی حیثیت، اقوام عالم کی قانون سازی، اور پاکستان میں پرندوں کے حقوق کے لیے مستقبل کی پالیسی بنانا اب وقت کی ضرورت ہے۔
Untitled 2025 11 16T003622.512
داتا دربار کے قریب واقع تاریخی برڈ مارکیٹ کی مسماری نے لاہور کے شہریوں، تاجروں اور جانوروں کے حقوق کے کارکنان کے دلوں پر گہرا زخم چھوڑا، کیونکہ حکومتی کارروائی کے نتیجے میں نہ صرف سینکڑوں پرندے، بلیاں اور دیگر جانور ہلاک ہوئے بلکہ سینکڑوں افراد بے روزگار بھی ہوئے۔اس سانحے کے خلاف Environmental and Animal Rights Pakistan اور Animal Save Movement Pakistan نے لاہور ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست (Public Interest Litigation) دائر کی، تاکہ واقعے کی عدالتی تحقیقات اور ماحولیاتی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ مقدمہ اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان میں جانوروں کے حقوق محض جذباتی یا اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قانونی اور عدالتی سوال بن چکا ہے۔

پاکستان میں جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین اگرچہ موجود ہیں، مگر ان کا دائرہ محدود اور عمل درآمد نہایت کمزور ہے:برطانوی دور کابنا جانوروں کے تحفظ کا قانون 1890ء جو جانوروں پر ظلم کی سزا متعین کرتا ہے، مگر اس کا نفاذ اب بھی ناکافی ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 2007ء جنگلی جانوروں اور پرندوں کے تحفظ سے متعلق قانون ہے لیکن شہری علاقوں کے پالتو جانوروں یا تجارتی مارکیٹس پر لاگو نہیں ہوتا۔پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997ء ماحولیاتی آلودگی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق قانون، مگر اس میں جانوروں کی فلاح و بہبود کا پہلو شامل نہیں۔یہی وہ قانونی خلاء ہے، جس نے لاہور برڈ مارکیٹ جیسے واقعات کو جنم دیا۔Untitled 2025 11 16T003841.980

لاہور برڈ مارکیٹ کی مسماری محض عمارتوں کے انہدام کا عمل نہیں تھی، بلکہ ایک انسانی اور حیوانی سانحہ تھی۔درجنوں دکانداروں کا روزگار ختم ہوا، اور سیکڑوں بے زبان جانور — خصوصاً پرندے — ملبے تلے کچل گئے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے عدالت سے استدعا کی کہ:مسماری کے مقام سے شواہد اور ملبہ محفوظ کیا جائے،ذمہ دار حکام کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے،اور مستقبل میں کسی بھی انہدامی کارروائی سے قبل حیوانی تحفظ کے پروٹوکولز لازمی قرار دیئے جائیں۔یہ عدالتی رٹ پاکستان میں ماحولیاتی انصاف (Environmental Justice) اور اینیمل لاء جیورسپروڈنس کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اینیمل لاء جیورسپروڈنس (Animal Law Jurisprudence) سے مراد وہ قانونی فلسفہ ہے جو جانوروں کو قانونی حیثیت (Legal Entity)، احساس رکھنے والی مخلوق (Sentient Being)، اور حقوق کے حامل وجود کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔یہ فلسفہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ عدالتیں اور قانون ساز ادارے جانوروں کے ساتھ ظلم یا استحصال کو محض اخلاقی نہیں بلکہ قانونی جرم سمجھیں۔

بین الاقوامی عدالتی نظائر (Global Judicial Precedents) کا جائزہ لیں‌تو بھارت Animal Welfare Board vs A. Nagaraja (2014) سپریم کورٹ نے کہا کہ جانوروں کو عزت و آزادی سے جینے کا حق حاصل ہے۔ارجنٹینا Sandra Orangutan Case (2015) عدالت نے بندر "ساندرا” کو Non-Human Person قرار دیا۔امریکہ Happy the Elephant Case (2022) عدالت نے جانوروں کے لیے Habeas Corpus پر بحث کی — جو ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوئی۔سوئٹزرلینڈ Constitution Article 80 جانوروں کو “زندہ مخلوق” تسلیم کر کے ان کے تحفظ کو آئینی بنیاد دی گئی۔جرمنی Basic Law Amendment (2002) آئین میں جانوروں کے حقوق شامل کیے گئے ۔
Untitled 2025 11 16T004123.190
پاکستان میں اینیمل لاء جیورسپروڈنس کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں ابھی تک جانوروں کو قانونی طور پر "ملکیت” تصور کیا جاتا ہے، نہ کہ "احساس رکھنے والی مخلوق”۔یہ نقطۂ نظر تبدیل کرنا ناگزیر ہے تاکہ حیوانی حقوق کو آئینی حیثیت ملے۔موجودہ وقت میں‌جانوروں کے تحفظ کے قوانین میں اخلاقی پہلو تو ہیں، مگر قانونی نفاذ کا فقدان ہے۔کوئی قومی اینیمل ویلفیئر بورڈ (National Animal Welfare Board) موجود نہیں۔عدالتی سطح پر اینیمل کورٹس کا نظام نہیں۔شہری منصوبہ بندی میں حیاتیاتی اثرات کی جانچ (Biodiversity Impact Assessment) کا فقدان ہے۔

عالمی تنظیمیں جو جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں ان میں‌ PETA (People for the Ethical Treatment of Animals) 1980 امریکہ جانوروں پر تجربات، فیشن اور خوراک میں ظلم کے خلاف مہمات، World Animal Protection (WAP)1981لندن عالمی سطح پر ظلم کے شکار جانوروں کا تحفظ(WWF (World Wide Fund for، Nature)1961،سوئٹزرلینڈ حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کا تحفظ، IFAW (International Fund for Animal Welfare)1969امریکہ قدرتی آفات میں جانوروں کی امداد، Animal Save Movement 2010 کینیڈا فیکٹری فارمنگ اور ذبح خانے کے خلاف عالمی تحریک شامل ہیں.

پاکستان میں پرندوں کے حقوق کے لیے ماہرین سفارشات کرتے ہیں‌کہ ایک نیا قانون “Pakistan Animal Welfare and Protection Act” کے نام سے منظور کیا جائے۔اس میں شہری اور تجارتی پرندوں کے لیے خصوصی باب شامل کیا جائے۔غیر قانونی شکار اور پرندوں کی سمگلنگ پر سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔عدالتی نظام کی توسیع کر کے اینیمل کورٹس (Animal Courts) قائم کی جائیں جو حیوانی تشدد اور غیر انسانی سلوک کے مقدمات کی سماعت کریں۔اینیمل ویلفیئر کونسل کے نام سے ایک قومی کونسل تشکیل دی جائے جو جانوروں کے علاج، تحقیق، اور تربیت کے منصوبوں کی نگرانی کرے۔پرندوں کے مسکن کا تحفظ کرنے کے لئے شہروں میں درختوں کی کٹائی اور تعمیرات سے قبل Biodiversity Impact Assessment لازمی کی جائےاور Bird Sanctuaries (پرندہ محفوظ علاقے) قائم کیے جائیں۔اس طرح تعلیم و آگاہی کے ذریعے نصاب میں “Animal Ethics and Welfare” شامل کیا جائے۔میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر عوامی شعور اجاگر کرنے کی مہم چلائی جائے۔
Untitled 2025 11 16T004116.916
اقوام متحدہ کے Sustainable Development Goals (SDGs) کے اہداف 14 (Life Below Water) اور 15 (Life on Land) جانوروں اور پرندوں کے تحفظ سے براہ راست متعلق ہیں۔لاہور برڈ مارکیٹ کا سانحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقیاتی منصوبے جب تک حیوانی تحفظ کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گے، وہ پائیدار ترقی (Sustainable Development) نہیں کہلا سکتے۔لاہور برڈ مارکیٹ کی مسماری نے پاکستان میں جانوروں کے حقوق کی کمزوری کو بے نقاب کیاجبکہ دنیا کے کئی ممالک میں جانوروں کو آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے جبکہ پاکستان میں یہ تصور ابھی ابھرتا ہوا ہے۔اس لئے Animal Law Jurisprudence کو تعلیمی، عدالتی، اور آئینی سطح پر فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جانوروں کے حقوق کا تحفظ محض قانونی یا سماجی فریضہ نہیں بلکہ انسانیت کے اخلاقی ارتقاء کا مظہر ہے۔لاہور برڈ مارکیٹ کا سانحہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ترقی کے نام پر ظلم، چاہے وہ انسان پر ہو یا پرندے پر، آخرکار معاشرتی توازن کو تباہ کرتا ہے۔پاکستان کو اب عالمی برادری کی طرح اینیمل لاء جیورسپروڈنس کو تسلیم کر کے اپنے آئین اور قانون میں جانوروں کے لیے باقاعدہ مقام دینا چاہیے تاکہ ہر جاندار کو جینے کا حق حاصل ہو۔

حوالہ جات (References):
1. Prevention of Cruelty to Animals Act, 1890 (Pakistan).
2. Punjab Wildlife Act, 2007.
3. Animal Welfare Act, 2006 (UK).
4. Prevention of Cruelty to Animals Act, 1960 (India).
5. Treaty of Lisbon, Article 13 (EU).
6. Animal Welfare Act, 1966 (USA).
7. Animal Welfare Board vs. A. Nagaraja, Supreme Court of India (2014).
8. Sandra Orangutan Case, Buenos Aires Court (2015).
9. Happy the Elephant Case, New York Supreme Court (2022).
10. Constitution of Switzerland, Article 80.
11. WWF Pakistan Biodiversity Report (2024).
12. Animal Save Movement International Report (2025).
13. United Nations Sustainable Development Goals (2015).

Untitled 2025 06 04T010448.935
خالد جاوید بخاری
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں