مطیع اللہ مطیع
بلوچستان اسمبلی نے اپوزیشن کے سخت احتجاج وشور وشرابے میں بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل منظور کرلیا۔ جمعہ کو سپیکر صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اسمبلی اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی جانب سے بچوں کی شادی کی ممانعت 2025ء کا بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
اجلاس کے دوران پرائیویٹ دن پر بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل پیش کرنے پر اپوزیشن لیڈر میریونس عزیز زہری نے احتجاج کیا جبکہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے رکن بلوچستان اسمبلی مولاناہدایت الرحمن بلوچ نے کہاکہ یہ قانون اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے خلاف ہے اسمبلی کویہ اختیار نہیں کہ وہ ایسا قانون پاس کرے ۔
اپوزیشن کے احتجاج پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ اپوزیشن کو اپنی رائے دینے کیلئے وقت دیاجاتاہے امید ہے کہ وہ شورشرابے کی بجائے اپنی رائے کااظہار کرینگے،اپوزیشن کی قراردادوں سے قبل قانون سازی کرلی جائے تو کیونکہ میں نے سفر جانا ہے،قانون سازی کے حوالے تحریک ایوان میں پیش ہوچکی ہے،اس پر رائے شماری کرائی جائے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ ہم پارٹی کے منشور کے مطابق چلیں گے،بچوں کی شادی کی ممانعت اسلام کے خلاف نہیں،یہ قومی اسمبلی سے پاس ہوئی ہے ،اگر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا. جس پر اپوزیشن لیڈر میریونس عزیز زہری کی جانب سے اجلاس کے ایجنڈے کی کاپی پھاڑ دی گئی اور سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کرنے لگے تاہم بعدازاں ایوان نے بچوں کی شادی ممانعت بل 2025ء منظور کرلیا۔

عورت فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر وایواجی الائنس کے علاؤالدین خلجی کہتے ہیں کہ "بلوچستان اسمبلی میں بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل (Child Marriage Prohibition Bill) کی منظوری ایک تاریخی اور بہترین اقدام ہے۔ یہ قانون سازی صرف ایک بل کی منظوری نہیں، بلکہ یہ صوبے کے بچوں، خصوصا بچیوں، کے مستقبل کو تحفظ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کم عمری کی شادی جبری مشقت، تعلیم سے محرومی، اور زچہ و بچہ کی صحت کے سنگین مسائل کا باعث بنتی ہے۔ یہ بل منظور ہونے کی صورت میں صوبے میں بچوں کی کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں دینے کی راہ ہموار کرے گا۔ہم صوبائی حکومت اور تمام قانون سازوں کو اس انسانی حقوق کی جیت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس کی جلد اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
یونائیٹڈنیشن وومن کی جانب سے بلوچستان اسمبلی میں بچوں کی شادی کی ممانعت کاقانون پاس کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان ،غزالہ گولہ،راحیلہ حمیددرانی، ڈاکٹرربابہ بلیدی اور سول سوسائٹی کو خراج تحسین پیش کی کہ ان کی مسلسل کوششوں سے بلوچستان اسمبلی میں بچیوں کے حقوق اور تحفظ کیلئے اہم قدم اٹھایاگیاہے ۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔



