Untitled 2025 11 14T070438.111

بلوچستان اسمبلی اور بچوں کی شادی کی ممانعت کے بل کی منظوری

مطیع اللہ مطیع

بلوچستان اسمبلی نے اپوزیشن کے سخت احتجاج وشور وشرابے میں بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل منظور کرلیا۔ جمعہ کو سپیکر صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اسمبلی اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی جانب سے بچوں کی شادی کی ممانعت 2025ء کا بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
Untitled 2025 11 14T070447.021
اجلاس کے دوران پرائیویٹ دن پر بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل پیش کرنے پر اپوزیشن لیڈر میریونس عزیز زہری نے احتجاج کیا جبکہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے رکن بلوچستان اسمبلی مولاناہدایت الرحمن بلوچ نے کہاکہ یہ قانون اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے خلاف ہے اسمبلی کویہ اختیار نہیں کہ وہ ایسا قانون پاس کرے ۔

اپوزیشن کے احتجاج پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ اپوزیشن کو اپنی رائے دینے کیلئے وقت دیاجاتاہے امید ہے کہ وہ شورشرابے کی بجائے اپنی رائے کااظہار کرینگے،اپوزیشن کی قراردادوں سے قبل قانون سازی کرلی جائے تو کیونکہ میں نے سفر جانا ہے،قانون سازی کے حوالے تحریک ایوان میں پیش ہوچکی ہے،اس پر رائے شماری کرائی جائے۔Untitled 2025 11 14T071645.949

وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ ہم پارٹی کے منشور کے مطابق چلیں گے،بچوں کی شادی کی ممانعت اسلام کے خلاف نہیں،یہ قومی اسمبلی سے پاس ہوئی ہے ،اگر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا. جس پر اپوزیشن لیڈر میریونس عزیز زہری کی جانب سے اجلاس کے ایجنڈے کی کاپی پھاڑ دی گئی اور سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کرنے لگے تاہم بعدازاں ایوان نے بچوں کی شادی ممانعت بل 2025ء منظور کرلیا۔

Untitled 2025 11 14T071850.323بلوچستان اسمبلی سے چائلڈ میریجز ریسٹرینٹ بل 2025 کی منظوری پر صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور احمد بلیدی نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔میر ظہور بلیدی کہتے ہیں کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی اور پاکستان پیپلز پارٹی و شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے پروگریسیو وژن کے مطابق بلوچستان میں شادی کی عمر کو اس تاریخی قانون سازی کے ذریعے وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کے مطابق کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ تاریخی قانون بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور بلوچستان کے بچوں کو کم عمری کی شادیوں سے بچانے کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے، تاکہ وہ تعلیم حاصل کر سکیں، روزگار پا سکیں اور صوبے کی سماجی و معاشی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

عورت فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر وایواجی الائنس کے علاؤالدین خلجی کہتے ہیں کہ "بلوچستان اسمبلی میں بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل (Child Marriage Prohibition Bill) کی منظوری ایک تاریخی اور بہترین اقدام ہے۔ یہ قانون سازی صرف ایک بل کی منظوری نہیں، بلکہ یہ صوبے کے بچوں، خصوصا بچیوں، کے مستقبل کو تحفظ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کم عمری کی شادی جبری مشقت، تعلیم سے محرومی، اور زچہ و بچہ کی صحت کے سنگین مسائل کا باعث بنتی ہے۔ یہ بل منظور ہونے کی صورت میں صوبے میں بچوں کی کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں دینے کی راہ ہموار کرے گا۔ہم صوبائی حکومت اور تمام قانون سازوں کو اس انسانی حقوق کی جیت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس کی جلد اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”Untitled 2025 11 14T072010.465

یونائیٹڈنیشن وومن کی جانب سے بلوچستان اسمبلی میں بچوں کی شادی کی ممانعت کاقانون پاس کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان ،غزالہ گولہ،راحیلہ حمیددرانی، ڈاکٹرربابہ بلیدی اور سول سوسائٹی کو خراج تحسین پیش کی کہ ان کی مسلسل کوششوں سے بلوچستان اسمبلی میں بچیوں کے حقوق اور تحفظ کیلئے اہم قدم اٹھایاگیاہے ۔

WhatsApp Image 2025 01 07 at 06.25.14 1
مطیع اللہ مطیع
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں