اکرام بکائنوی
اقبالؒ ایک نام نہیں، ایک عہد کی بیداری ہے۔ ان کی زندگی فکر و وجدان کا وہ سفر ہے جس نے غلام ذہنوں کو خودی کی روشنی بخشی۔ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے اقبالؒ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں ایم اے کیا اور جرمنی کی یونیورسٹی میونخ سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ لندن میں بیرسٹری کی تعلیم کے بعد وہ محض شاعر نہیں بلکہ ایک فکری انقلابی بن چکے تھے۔ ان کی وفات 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں ہوئی مگر ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے، ان کا مزار خاموشی میں دلوں کو بیدار کرتا ہے۔
اقبالؒ کی شاعری اور فکر دراصل قرآن کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے انسان کو خودی کی روشنی سے متعارف کروایا اور دکھایا کہ انسان محض مخلوق نہیں بلکہ خالق کے راز کا امین ہے۔ انہوں نے فرمایا:؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر فلسفۂ خودی کی روح ہے، جو انسان کو تقدیر کے تابع نہیں بلکہ خالق کا شریک بنا دیتا ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک ایمان، علم اور عمل وہ ستون ہیں جن پر امت کی تعمیر ہونی چاہیے۔اقبالؒ نے نوجوانوں کو ملت کا امید کا محور قرار دیا۔ ان کے نزدیک نوجوان شاہین ہے جو بلندیوں سے کم پر مطمئن نہیں۔ وہ فرماتے ہیں:؎
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
یہ محض شاعرانہ استعارہ نہیں بلکہ عملی فلسفہ ہے۔ نوجوان جب اپنی خودی پہچان لیتے ہیں تو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔اقبالؒ نے مغربی تمدن کی ترقی کو سراہا مگر خبردار کیا کہ اگر علم سے روح خارج ہو تو وہ تباہی کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اصل ترقی وہ ہے جو انسان کو خدا کے قریب لے جائے۔ وہ فرماتے ہیں:؎
تمدن، تصوف، شریعت، کلام
بتوں کے در و بام سے آگے نہیں
اقبالؒ کی فکر ماضی، حال اور مستقبل کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ وہ خواب دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں مگر ایسے خواب جو عمل میں ڈھل سکیں۔ ان کے نزدیک ایمان کوئی سادہ عقیدہ نہیں بلکہ حرکت اور عمل کی قوت ہے۔ عشق ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو خود سے بڑا بناتی ہے اور غلامی کو موت سمجھتی ہے۔اقبالؒ کے افکار نے امت مسلمہ کو سیاسی اور فکری آزادی کا سبق دیا۔ 1930ء کے خطبۂ الٰہ آباد میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا خواب دیکھا، جو بعد میں قائداعظمؒ کی قیادت میں حقیقت بن گیا۔ اقبالؒ کا یہ تصور صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک روحانی نظریہ تھا جو خودی اور ایمان کے اصول پر قائم تھا۔
اقبالؒ کی شاعری میں درد بھی ہے اور امید بھی۔ ان کے اشعار میں وہ آگ ہے جو دل کو جھلسا کر روشنی میں بدل دیتی ہے۔ انہوں نے فرمایا:؎
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یہ پیغام آج بھی تازہ ہے۔ ہر فرد اگر اپنی خودی جگا لے تو اجتماعی تقدیر بدل سکتی ہے۔
یومِ اقبالؒ ہمیں صرف یاد دہانی نہیں بلکہ خود احتسابی کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم نے اقبالؒ کے خواب کو کہاں تک حقیقت بنایا۔ نوجوان ان کے اشعار یاد کرتے ہیں مگر ان کے فلسفۂ زندگی کو اپنا نہیں پاتے۔ اقبالؒ کے نزدیک تعلیم کا مقصد نوکری نہیں بلکہ کردار کی تعمیر اور خودی کی پہچان ہے۔
اقبالؒ کی فکر آج بھی جدید دنیا کے لیے رہنما ہے۔ مادی دوڑ، خودغرضی اور انسانیت کے نقصان کے اس دور میں ان کی آواز یاد دلاتی ہے کہ ترقی صرف مشین یا دولت نہیں بلکہ خدا کے نظام سے ہم آہنگ ہو جانا ہے۔اقبالؒ کی زندگی خواب سے حقیقت کا سفر ہے۔ ان کا خواب ہم نے پایا مگر ان کی روح کو اپنانا باقی ہے۔ ہر لفظ، ہر شعر اور ہر فکر قاری کو سوچنے، بیدار ہونے اور عمل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔اقبالؒ کا چراغ وقت کے اندھیروں میں روشنی بانٹ رہا ہے سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس روشنی سے اپنا راستہ تلاش کریں گے۔


